دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 274

ہیں کرتی برین خان هم می بارد سنگر چگونه به بینی اگر ما باشد یک تو یہی ، ہی میرے اس گھر پانی پر ہی رہا ہے لیکن اگر تو نا بینا ہو تو کیونکہ دیکھ سکتا ہے ت که پیرزنان کار نیست است دیو میکرود در دل تو میل راهتان باشد انوں کی طرح رتی روانی کی اس سے سال میں ایک یا این کار را پیدا کرتی ہے تانے بانے آتان بخواه دارد باد که جان شان برو دین من قدر باشد لوگوں کے ایک بازو پر ہزار زاہد قربان ہوں جن کی جان دین تھی پر لدا ہے گرایندگان محبت مستهوران بحال روندگان ہے کال رو تا باشد وہ خدا کی محبت کے امیر اور اُس کے حسن کے پجاری ہیں اور اس راہ پر چلنے والے ہیں جو دن کا راستہ ہے امام وقت ماں پہلوان میدانست که تیغ بر سر سریش آشنا باشد تاہم حالت میں ان کا نشانہ کام ہی پہلوان ہے جس کے سر پر تو رہے اور سر ندا کے حضور میں ہے جمال تو قدر شناسی خصال مودال را کو خصلت به پول خصلت نسا باشد تو جو مردوں کے اخلاق کی قدر کیا پھچان سکتا ہے کہ تیری تو سب خصتیں عورتوں کی بھی ہیں جانی یار جان دوستانتان سیاست کو سی شیر کو کیش زبور یا با شد ان کے نزدیک دنیا اور دنیا کی موت ہیلی حقیر ہے جیسے تیری نظر میں بوریے کا ایک تھا ین قم مقابل بانی نے نشاں نیلمه د کرد کاتور او د خور این گور از خدا باشد پھانسان کے منہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا نور سورج سے ہے اور ان کا نور خدا سے ضرت محمد سے آکر مجھے ماری جائے گر ایشان خلق پاستا باشند سے لوگ بارگاہ خداوندی میں صاحب دوست ہیں اور ان کی آہ وزاری کی دعا آسمان کو پھیر دیتی ہے۔