دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 270
۲۷۰ زمان تعطر بیا د هنوز در خوابی شنو که سر سحراز الفت این ندا باشد جاگنے کا وقت آگیا مگر ابھی تو نہیں ہے مٹی کہ بار کھلی رات کو فرشتہ یہی آواز دیتا ہے ملا فضل وکرامت کے کا نرسد کجاست کنار باب دوما با شد ہریوں لقد نی اور اس کے ویسے کوئی تم تک نہیں ان کا کہاں ہے وہ شخص جو د نوی کرامت کا مدنی ہے سکتام علم وفضل ہزار نفقہ نمائی کیسے ہوسکه ما نقش توب وعیار و صفا کجا باشد سکے دکھائے پھر بھی چک ایک اور کھرا ہوتے ہیں ہمارے سکہ کی بھاری نہیں کر سکتا شوید که یادم متعدی وقت جنان او دگرے کے تانیا با شد شخص رو یادم اور مہدی وقت ہے اس کی شان کو الفیا میں سے کوئی نہیں پہنچ سکتا انه بافت نه بود جهان موش و سر بسته امین آمدم بند و یکی از صبا باشد جہاں ایک شہر کی طرح بند تھا میں اس کے لیے ان برکتوں کولے کر آیا ہوں جو جادو یا لایا کرتی ہے هفته که با استاندین ایام کدام راه بدی کو دور افتا باشید اس نہیانہ میں کس قدر فتنے پیدا ہو گئے ہیں اور کونسا راستہ ہدی کا ہے جو بھی ہے۔ہو حال بیت کوین فتنه بانوی محفوظ مگر تا پروبین گام اقتدا باشد ناممکن ہے کہ تو ان فتنوں سے بچ سکے سوائے اس کے کہ تو میری پیروی کرے میک سایڈ ہال پاش شود معما و پایش کردو ان سے نقل ما باشد سایه عماد دورے سے ر شخص جسے بال ہماتے بھی فائدہ نہ دیا ہواسے چاہیے کہ دو دن ہمارے زیر سایہ رہے ہو سلم است ما از خدا حکومت عام که من صبیح خدایم که به سما باشد نا کی موت سے میری حکومت ثابت ہو چکی ہے کہ کریم اس دن کا ایسی ہوں جو آسمان پر ہے