دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 261
ہر کے دستے یہ واما نے زند ما بہ ذیل حتی وقتیتوم واحد شخص کسی نہ کسی کے دین کو پکڑتا ہے گرم نے ھی و قیوم اور کیا خداکے ان کو پڑا ہے اسے دریا قوم من نشناختند نفقه ایمان در حد با باختند افسوس میری قوم نے مجھے نہ پہچانا اور ایمان کی دولت حد سے برباد کردی این جان پرستم کوره دار است چشمه شان دار همه روان کنتراست یہ ظالم دنیا اندھی اور بری ہے اس کی آنکھیں اُتوں کی پنکھوں سے بھی گئی گندی ہیں۔اتف بودم مرا نواختند جای نت گشته و می انداختند اس لیے کہ جب میں ایک نہ تھا تو نہوں نے میری موت کی گرجب میں سورج بن گیا تو انہوں نے مجھے اپنی نظر سے گراون ر نحوه راه تو یه صفحه امطبوعه ۱۹۱۹۰۲ مان شمع شر کال از خدا باشد که بانشان نمایان مندانه باشد انسانوں میں وہی خدا کی طرف سے کالی ہوتا ہے جو روشن نشانوں کے ساتھ خدا نما ہوتا ہے ان و توری و صدق و و نا خالق او کرم و غربت و یا با شد اس کے چہرہ سے عشق اور صدق وصفا کا نور کہتا ہے کہیں کھا اور یہ اس کے اخلاق ہوتے ہیں نات ا تر یا مات می باشند به تو قامت او یو انبیا باشد۔ہوں کی ساری صفات مدا کی صفات کا ر ت ا ا ا ا ا ا ا ا ا ال ای دنیا کے استعمال کی بند ہوتا ہے دوران کشمیر اور سردی باشد میان در ایمی اش رہنے کبریا باشد اس کے سر یہ ساری فیضان کا مندر جاری ہوتا ہے اور اس کے پھر میں خدائے بندگ کا چہرہ نظر آیا ہے۔Har