دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 255

það نیستی گرگ بیابانی در ماد ترک کن این خوئی و زمینی شرم دار تو جنگل کا بھیڑیا نہیں ہے۔نہ سانپ ہے۔یہ عادت چھوڑ اور خدا سے از حقیقت بے خبر ورانہ اوب اسے حفصہ ور انسان تیری سیرت سے تعجب آتا ہے کہ تو حقیقت سے بے خبر اور ادب سے دور ہے در خیز واقل فهم و در آن درست کہ میں را چشم می چشم می باید نخست اٹر اور سب سے پہلے پنی سمجھ کو درست کر نکتہ چیں انسان کی سے پہلے ہی کم ٹھیک ہونی چاہیے دل شود از بد زبانی با سیاه بینه باتاں راور آنجا نیست راه بعد زبانی سے دل بیاہ ہو جاتا ہے۔بد زبان لوگوں کی خدا کے حضور میں رسائی نہیں ہے۔کم نشین با زمره مستر بین تا بیابی حقه از منندیں سفر کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھے تاکہ تو جہایت بافتوں میں شامل ہو روزه و شب بد گفته کار تو شند لعنت و تحقیر کردار تو شد دن رات تیرا کام مجھے بیٹا کام مجھے بیٹا کہتا ہے۔سنت اور تحقیر تیرا پیشہ ہو گیا ہے لعنت آن باشند که از رحمن بود لعنت اہل و ڈول آسال بود۔عنت کو وہ ہوتی ہے جو جان کی طرف سے ہو نا اہل اور ذلیل انسان کی لعنت کوئی حقیقت نہیں رکھتی گر سیفیسے لعنتنے برما کند او نه بر ما خویش را رسوا کنند اگر کوئی امتی ہم پر لعنت کرے۔وہ ہم پر انہیں پڑتی بلکہ وہ خود اپنے آپ کو بدنام کرتا ہے۔ھر کرنے وار و دل پرهیزگار چون محب ودار نیز کار کردگارم شخص کا دل پر ہیز گار ہے۔وہ خدا کے کام پر کیوں تعجب