دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 231
۲۳۱ کن ایک موم ہوا ہم اس کتاب کال منتزه او ناداد ارتیاب میں نے ان لوگوں کے سامنے وہ کتاب پڑھی جو ریپ اور شک سے پاک ہے دینی قرآن ) یم خیبر ایش کردم نیاں سول کو صدیق و فضل منی پاک اختیال انی اس رسول کی مویشی بھی پیش کیں جو فضل خدار استباز ہے اور نو گوئی سے پاک ہے لیکن اپنیاں۔رتی روئے نبود پیش کر کے گریے پیشے چھ شود لیکن ان کا ارادہ بھی ھی قبول کرنے کا نہ تھا بھیڑیے گئے آگے بھیٹر کا روتا فقتولی ہے کا نرم گفتند و رو با تافتند آن تقی گویا داری کا افتند نھوں نے مجھے کا کہا اور پھر لیار یقین کریا نگر یا انھوں نے میرا دل چیر کر رکھ دیا ہے در بیان خوب گفت گل شاہ دیں کافروں دل بر دل چل تو میں تھی کے بارے میں اس شاہدین نے کیا اور فری ہے کہ لوگ دل کے کا قرین اور ظاہر کے مومن بیه تریاں قرآن مگر در سینه با خب پینا است و کیر و کینه با ان کی زبان پر قرآن ہے مگر ان کے سینوں میں دنیا کی محبت۔تکبر اور عداد میں ہیں دانش در نیران است دگران پشت نمودند وقت مرصات دین کی سمجھد کا والی بھی صرف است وگزرا ہے کیونکہ ہر جنگ کے وقت انھوں نے پیٹھ دکھائی ہے۔جاہلا نے فاضل از نازی نہاں ہم نہ قرآن ہم تو اسرار نہاں ا ہے وہ مال میں جو عربی دان سے تلواعت میں تیز تر کی اور اس کے ایک جیدوں سے بھی بیرستان چون تا مال خود رسید غیرت می پردہ ائے شاں دی کو پہنچ گیا تو خدا کی غیرت نے ان کے پردے پھاڑ +4