دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 227
۲۲۷ د را داند کسے کو گور شد از حجاب سرکشی با گلد شد را حمد کو وہی شخص کھتا ہے جوخود کار ہوگیا ہو۔اور سرکشی کے حوالوں سے دور ہو گیا ہو این مجمہ کو راں کہ تحتی می کنند بیگان از گور قران قافل بند همه کورال که میکنیم یہ سب اندھے جو میری تکفیر کر رہے ہیں۔یقینا قرآن کے نور سے بے خبر میں لیے خبران راز ہائے این کلام ہرزہ گویاں نقصان و ناتمام اور اس کلام کے اسرار سے ناواقف ہیں۔بیہودہ گو۔ناقص اور نام ہیں رکت شمال استو نے بیش نیست در سرشان فضل دور اندیش نیست لی کے ہاتھ میں بڑی سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اُن کے سری دور اندیش عقل نہیں ہے شده اند و فهمه شان مردار هم بے نصیب داشتن داز دلدار هم اند وہ خود مردہ ہیں اور ان کا تم بھی سردار ہے وہ عشق اور معشوق دونوں سے محروم ہیں التعرض فرقال ما یه دین ماست اور انہیں خاطر همگین است المعرض قرآن ہمارے دین کی بنیاد ہے وہ ہمارے غمگین دل کو تسلی دینے والا ہے توبہ فرمان می کنند ہوئے خدا سے توال دیدن از وروے خدا فرمان کا نور خدا کی طرف کھینچتا ہے۔اس سے خدا کر چہرہ دیکھ سکتے ہیں ما چه سال بدیم زنان دلبر نظر چھوڑ دئے اوکھائوئے دگر وای اد ہم ان میں سے ان کی کوک بنا سکتے ہیں اس کے چہرہ میں خوبصورت اور کوئی چرہ کہاں ہے انے ک از توبہ کے او نبافت یافت در نیش دان میں جو یافت یراندا کر کے ان کی وجہ سے کا میرے دل نے جو کچھ بھی پایا اس کے میں سے پایا