دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 218

PIA کا گشت که مرزبانان مقامر شان بشت است بر جری کام و ایشان نیا کی اے این کو یہاں رہ گئی ہے اس جہان کے وقت میں ان کا نام می بست رہتا ہے۔رگری غیر اسکولش زنده شد عشق میر کے زرعیت مراش مرامیشان و نہیں مرتاجی کو محنت سے زندہ ہوگیا تو وہ ہے جس کا مقصد ان عاشقوں جیب نہیں ہوتا اسے موہ دل کوش ہے مگر اہل دل جل قصور قیت نفسمی کلامہ شمال سے سولہ دل صاحب اوں کی خدمت کی گوشت نہ کر تو اپنی نادانی کی وجہ سے ان کا کلام نہیں سمجھ سکتا دست میکن متحد ۱۸) تز یک قطره داری و عقل و خرد مگر فقد تنش بحر ہے مدد عد تیرے پاس تو معقل اور دانائی کا صرف ایک قطرہ ہے لیکن خدا کی قدرت بے پایاں سمندہ ہے اگر پیشنوی قصه صادقان بجنبان سر خود پر مشتریان اگر جب تو راستبازوں کے حالات مئے تو چاہئے کہ اپنا سٹھٹھا کرنے والوں کی طرح چلائے تو خود را خرد مند فهمیده مقاماتِ مردان کجا دیده تو خود کو عقلند سمجھتا ہے۔گر تو نے مردان خدا کے مقامات دیکھتے ہی نیکی است چین مرسوم توانم که این دو پایان کنیم که جان در رو خلق قربان گامی به این دو مجھ میں یہ طاقت ہے کہ یہ عہد اور بیان کر دوں کہ مخلوق کے لیے اپنی جان قربانی الے حافظ شیرازی کا مصرع ہے