دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 216

PIT ار نمک تاریخیت اندر جان جان جان است آن جانان ما اس نے بہاری راہوں پر بیت کا نمک چھڑکا ہے۔وہ ہمارا محبوب ہماری جانوں کی جان مرد ہو نے نقش بستی زد گرفت جان عاشق نگر مستی زد گرفت ہر بچہ نے اسی سے پی بہتی رفت حاصل کیا ہے اور ان کی جان نے بھی متی کا رنگ اسی سے دینا مرکز دوش خودبخود جائے بود و نه داتنا سخت نادان بود جین شخص کے نزدیک روح خود کنید پیدا ہوگئی ہے اشخص وانا نہیں بلکہ سخت ہیو توت ہے گر و بورد دانه نال رحال میرے جان را با جان او یکساں ٹیر سے با نیند اگر ہمارا وجود اس رحمان کی مخلوق نہ ہوتا تو ہماری جان اور اس کی جہان ایک جیسی ہوتی آنکه جای ما بانش مہر است جائے جنگ دعار نے پریشر است وہ جس کی جان سے ہماری مالی برابر بوده پر میشر نہیں ہے بلکہ قابل شرم وجود ہے۔سیر قهرهم خدائی قدرت است منکر آن ایرانی صد لعنت است او خلاقت اسی کا بھید اس کی قدرت میں ہے قدرت کا منکر سینکڑوں لعنتوں کا مستق ہے۔زمانی صدق این گفتار را هم ز ینیک شنو این امیرار را اہم زن اگر تو اس بات کی سچائی کو نہیں جانتا تو نانک سے ہی یہ رانہ کی یہ مانہ کی باتیں مشین گفت مہر اور سے نہ اوریق نیافت هر دودن نقش خوزان دست یافت اس نے کہا کہ ہر تو رضا کے نور سے چکا ہے اور ہو جود نے اسی کے ہاتھ سے ناقش حاصل کیا ہے مری نے گو کہ ہر سال اول خداست خود بود نے کردی ریت اور سنی است و یہ کہتا ہے کہ ہر روح خدا کی طرح ہے بعد آپ ہی آپ سے نہ کہ رب العالمین کی پیدا کی ہوئی