دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 203
این کتا بے پیش چشم ما نهاد تا از و راو بدی داریم یا در با یر کی کتاب اس نے ہماری کھول کے اتنے کہ دیا کہ اس کی وہ سے جمہوریت کا راستہ یاد نہیں نا شناسی ہوں مداے پاک را کو نماند خاکیان و خاک را ہ کہا تو اس خدائے پاک کو بھاتے ہو دنیا والوں اور دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا شود بیمار بر روی دست شناسی از مزایای آنچه دوست کہ خود کی جی کے لیے پہلو میاں کے ہوتا کہ تو ہزاروں کلاموں میں سے پالا ہے کہ کون اس کی رو سے ہے تا خیانت بی را نماند هیچ راه تا مبدا گردد سفیدی از سیاه کہ خیانت کا کوئی راستہ کھلا نہ رہے اور نور تاریکی سے الگ ہو جائے پیس ہال شد آنا اس حوار خواست کار نقش شاید گفتار خاست همان شده اداری ہیں وہی ہوا جو اس خدا کا نشا تھا اور اس کا کام اس کے کلام کا گواہ قرار پایا مشرکان در آنچه پورش می کنند این گواہاں تیر ورزش می کنند تیر مشرک لوگ جو بہانے کرتے ہیں یہ گواہ رقول خاور فصل خدا ہیں عذرات کو نیزوں سے چھلنی کردیتے ہیں ہیں یہ گر بگوئی بغیر را رحمان خدا تک زند بر روئے تو ارض و سما اگر تو کسی اور کو خدائے رحال کر دے تو تیرے منہ پر زمین و آسمان تھوکیں اور نمائشی پر اس یکتا پسر یہ تو بارو لعنت زیر و زبر اگر اس کیتا کے لیے تو کوئی بیٹا جو نہ کرے تو نیچے اور اوپر سے تجھ پر تین برسنے نہیں نیاز بان حال گوید این جهان کال شما فرد است و تیم دیگاں با فرد است و جهانی زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ خدا کیا یتیم اور ماحد ہے