دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 120

۱۲۰۰ یا تا بهتر یقین رصد تعلیم تا دو گونه شود رو تفهیمی تاکہ تعلیم یقین کی حد تک جا پہنچے اور عقل و سمجھ کا راستہ طویل زاں دو گونه مناهج تلقین سے کشاید رو حصول یقیں دو تکفین کے ان دو راستوں سے یقین حاصل کرنے کا رستہ کھل جاتا یریت بحب قصر و خیال سے بر آید بلال نر چاہ ملال قم در طبیعت اپنی مجھ اور خیال کے مطابق ان دو سال کے ذریچ گرا ہی کے کنویں سے باہر نکل آتی۔قرص آن میل فطرتی کہ خلا ق کرد در فطرت بشر پیدا غرض یہ کہ وہ قدرتی میلان ہو خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں پیدا کیا اس ہے خود است وحی ربانی نظریے کن بغور تا دانی وہ بھی خدائی الہام کا طلب گار تھا غور سے دیکھے تا کہ تو حقیقت کو بیچ فراست چون فتاده است چناں چوں کی سر ز قطرت اسے تاوان جب تیری فطرت ہی اسی طرح واقع ہوئی ہے پھر اسے اوران اس فطرت سے کیوں روگردانی کرتا۔اقتضائے طبیعت انسان که نهاد است اینه د منان مستان انسانی طبیعت کا تقاضا ہو اس محسن خدا نے اس میں ودیعت کیا ہے کہ راکند کو بشر را کٹے ہوئے قیاس تاحد کار را به عقل اساس کبھی بشر کو قیاس کی طرف کمپنی ہے تا کہ اپنے کام کی بنیاد عقل پر گا دیگر کا و دیگر کشد به منقوت تا بیارامد از بیان ثقات پھر دوسرے وقت وہی تقاضا سے روایات کی طرف لاتا ہے تاکہ معتبر انسانوں کے بیان سے تسلی پکڑے