دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 108
۱۰۸ خود نگرد ترا خود نشار که چنین واسعه آن مکان آستار سب تک خود عقل تجھے ہرگز نہیں بتاتی کہ فلاں مکان کے یہ یہ نشان ہیں میں چکن که دم زند نهاد که چنین اند آن دیار و بلاد ر کی لکھی ہے کہ عالم آخرت کے باتے ہیں ا فصل دوم در سکے کہ وہ ملک اور مقامات ایسے ہیں این چشتی است و این چه سیرابی که جهل است رات آگاری یہ کیسی بیوقوفی اور گمراہی کی بات ہے کہ تو جاہل ہو کر علم کی لات مارتا ہے چهل سردی اور قیاس خود یہ ہے کہ مریدی ہیمر خویش گئے ی یا اس سے کس دکھیا سے ہی ماہ کی طرح چل سکتا ہے جسے تو نے عمر بھر میں کبھی بھی نہیں جمله شد از عالم دگر غیرت با درست دیده بود یا پدرت جھے عالم آخرت کی خیر ہ نہ ہو گئی کیا تیری ماں نے اُسے دیکھا تھا یا تیرے باپ نے اور غمیداست کسی جہاں دانی کم حرام اسے دنی بریانی اگر کسی نے نہیں دیکھا پھر تجھے کیونہ معلوم ہوا اسے کیسے تنگا ہوتے ہوئے مٹک کر دچل ود که داری به انبیا این همه کودی است دانشکبار ان ایم جو انبیار کا منکر ہے یہ بھی سب تیرا اندھا ان اللہ تمبرا ہے یک نظر کن بفطرت انسان کہ ندارند جو ہرے کیساں کہ نما نسانوں کی فطرت پر ایک نظر ڈال کر وہ سب میں اپنی تربیت نہیں مختلف او یا د ہر برے کسی میرے نزد و کس شہرے شخص دوسرے شخص سے مختلف ہے کوئی نیکی میں بڑھ گیا کوئی بڑ کا امیں انکار