دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 55
ا پر چلی مرداد نے را اور دانا تھے راز نا ہمہ کو دیم و او را دیده باز ہم سب جیل محض ہیں۔اور وہی من تلقت اسلام سے ہم سب اندھے ہیں اور وہی ایک جیتا ہے واقعہ یا خدا ہم دھوتی فردانگی است مبل است درنگ دریایی خدا کے مقابل پر عقلمندی کا دعوکلی کرنا۔سخت جہالت اور دیوانہ ہی ہے افتی رو از خور تاباں که من خود به گرم روشنی از خویشتنی روشن سورج سے منہ پھیر لیا اس خیال سے کہ میں اپنے احمد ر سے آپ ہی روشنی نکال لوں گا الے را کور که دست این خیال اسرنگوں انگنده در چاه هلال | اس خیال نے ایک دنیا کو اندھا اور پھرا کر دیا ہے۔اور انہیں گمراہی کے کنوئیں میں ڈھال دیا ہے انه رفضنت مکن گر مفتی است در رو قاین روندی تے ست دره تو کہتے * اگر کچھ عقل ہے تو اس عقل پر نازہ نہ کر۔تیرے راستے میں یہ محفل ایک محبت ہے عقل کان پاکبر میدارند خلق است عفت و عقل پنداره ند خلق نگر سے ملی ہوئی وہ معقل بولوگ رکھتے ہیں محض ہو توتی ہے پھر بھی لوگ اسے عقل سمجھتے ہیں کبر شهر عقل را ویران کند | ماقتلان را گره و نادان کند بکر عقل کے شر کو دیہانہ کر دیا ہے اور عقلمندوں کو گمراہ اور بیوقوف بنا دیتا ہے۔آنچه افزاید مغرور و مسیجی چول رساند تا دایت اسے نوبی | جو چیز فرور اور کہتر کو بڑھاتی ہے اسے گمراہ ! وہ تجھے خود ایک کینوکی پہنچا سکتی ہے ندیدی در شرک اعداد و ترا تو رکن از فروردی اسے خود شما خود روی تجھے شرک میں ڈال دے گی۔اسے اسے ریا کار خود روی سے توبہ کر