دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 340
۳۴۰ دگی حتی درایو شنوی انه ما ہیں مگو ، نیافتیم چمدا تو ہم سے خدا کی دی نے تو یہ کہو کہ وہ ہم کو کیوں تانه کانه دلت بجان برسد چون پیامت زدستان برسد برسید جب کی تیرے دل کا کام نام نہ ہوجائے کس طرح محبوب کا پیغام تیرے پاس پہنچے تا نه از خود می روی مجمداگردی تا تا نه قربانی آشنا گردی جب تک تو خود بدی سے الگ نہ ہو اور جب تک تو دوست پر خدا نہ ہو تا نیائی تو نفس خود بیروں کتا نہ گردی بروئے اُو مجنوں جب تک تواپنی نفسانیت سے باہر نہ آئے اور جب تک اس کے چہرہ کا دیوانہ نہ بن جائے تا نه شراکت شو د بیان عبار تا نه گرد و غبار تو خونبار ردو جب تک تیری خاک نما کی طرح نہ ہوجائے اور جب تک تیرے غبار میں سے ستون تا نه خونت چکد برائے کے نا نہ جانت شود ندائے کے جب تک تیرانون کسی کی خاطرہ ہے اور جہت تیک تیری مان کسی پر قربان نہ ہوجائے نوں دہندت کوئے جاناں راہ چوں ندا آیدیت انسان درگاه تی کہ مجھے کوئے جاناں کا راستہ کیوں کر لے اور اس درگاہ کی طرف سے تجھے آوازنہ کیونکر آئے تو حریم در هم و دنیار روز روشنیاں منگان برال شروط تو تو روپے پیسے کا لالچی ہے اور دن رات اسی مردار پر کتوں کی طرح گرا ہوا۔انہیں حرص و آز و کمر و غرور چون نمانی زکر نے جاناں دور اس قدر لالچ موص تکبر اور بیروں کے ساتھ کیا وجہ ہے کہ تو کوئے جاناں سے دور نہ رہے