دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 99

۹۹ خود ندائے بی عیت نزدروں کہ نہ تائید حضرت بے چوں تو خود تیر سے اندر سے ہی یہ آوازہ آئے گی کہ خدائے بے نظیر ہی کی تائید سے یہ ہوسکتا ہے تای اندریاس و قسم کے! کہ شود کار پیل از گے کسی شخص کی نقل و قسم میں یہ بات نہیں آسکتی کہ ہاتھی کا کام ایک مکھی سے ہو پس چه مکن که ذره امکان خود کند کا یہ حق بزور و توان پھر یہ کیونکر مکن ہے کہ مخلوقات ک ایک قریہ آپ ہی اپنے زور و طاقت سے خدا کا کام کرے شان دادا به پاک را بشناس در چنین کسریشان او بر اس داد خدائے قدوس کی شان کو سمجھے اور اس کی ایسی تو ہین سے نوت خویشتن را شریک او سازی پیش اردم زنی با نازی نیٹیں اس کا شریک بناتا ہے اور اس کے بالمقابل برابری کا دلائی کرتا ہے۔انی عقل است اسے بتر و اب انچہ یہ غم تو فا حجاب اسے پانیوں سے بھی گئے گندے انسان ہی کی بات ہے تیری مجھ پر یہ کیسے پردے پڑ گئے گر کسے گویدت با استقاده که درین شهرمون تو هست بهزاد اگر کوئی تجھے تحقیر سے یوں کہے کہ اس شہر میں تیرے جیسے ہزاروں ہیں نیتی ان کے بعقل فزوں یا تو ہم پایہ اند مردم دوں اور تو قتل میں کسی سے بڑھ کر نہیں ہے اور ادنی اوئی انسان بھی تیرے برابر ہیں الختل می شوی بیس نیزری صدی آری که خوان او ریز کا در دل ا تو یہ اب اس کی تو ہوش میں آجانا اور ان کے تیار ہو جاتاہے تیرا جی چاہتا ہے کہا سے قتل کرد