دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 77

نوشتن راکش به تزکب کیا جائے گتہ مشد باستمرا بے شرم ہی کو اپنے آپ کو بلاک نہ کر اور تمسخر کر کے خود رونے کا مقام نہ بن مهر تابان چه بر فلک رخشید چون توانی بخاک و خس پوشید جب آسمان پر چکتا ہوا سورج نکل آیا پھر تو کس طرح اسے مٹی اور گھا اس سے چھپا سکتا ہے۔شب توال کردم قروب شان یک در روز روشن این متقال رات کے وقت تو تو قریب چھپ سکتے ہیں۔لیکن روز روشن میں ایا ملکی نہیں نور فرقان نه تافت است چناں کو بجاندے نال گردیده در ان ورباندے نال شوید وردا گر آن کا نور ایسا نہیں پکتا ہے کہ دیکھنے والوں کی نظر سے ٹھٹی رہ سکے اک چراغ ہد علی است دنیا را امبر و اینجاست دنیا را وہ تو تمام دنیا کے لیے ہدایت کا چراغ ہے اور جہان بھر کے لیے رہبر اور رہنما تو دنیا کھتے ان محمد است دنیا را نعمتی از سیاست سماست دنیا را خدا کی طرف سے دنیا کے لیے ایک رحمت ہے اور آسمان سے اہل جہان کے لیے ایک تہمت مون ساز ہائے سیانی از خدا آل شدا دانی مخزن وہ خداوند کے اسرار کا خزانہ ہے۔اور خدا کی طرف سے خداشناسی کا آلہ یرتر از پایه بشر کمال دستگیر قیاس و استقلال وہ اپنے کمالات میں انسان کے مرتبہ سے بالا ہے، اور قیاس اور استعمال کی دونگیری کرتا ہے کار سایہ اتم معلم و عمل جنتش اعظم و امر آمل ہمیں ان علم جیل میں ہمارے لیے کال کا ساتہ ہے اس کی دلیل پختہ اور اس کا اثر نہایت کامل ہے