دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 69
الد القاسم اس آفتاب جہاں کو روشن شداد سے زمین و زماں ابو القاسم وہ آفتاب اب عالمتاب ہے جس کی وجہ سے زمین و زمان روشن ہو گئے بشر کے بندے ان لک نیک نو نووسے اگر یوں محمد بشر انسان فرشتہ سے بہتر کیونکر ثابت ہوتا۔ اگر محمد صلعم کی طرح کا انسان پیدا نہ ہوتا نباید تما شرم از کردگار تی که اول خود باشی و با وقار میں تجھے خدا تعالے سے شرم نہیں آتی کہ عقلمند اور معزوز ہونے کے باد پس آنگه شوی منکر ان رسوال کر یا بد از و نور چشم عقول پھر بھی تو اس رسوا مرسول کا منکر ہے جس سے خود عقل کی آنکھیں نور حاصل کرتی ر سهور زه غفلت رسیده تر از طور بشر پا کشیده به ہیں تجھے سعود غفلت سے خلاصی ۔ اصل نہیں ہوئی اور انسانی خصائل سے آزاد ہے نباید و تو کار رب العباد مکن داوری با نه جهل و عناد داوری با تجھ سے رب العباد کا کام نہیں ہو سکتا اس سے ترجمل و عناد کے باعث جھگڑا مرکر مدال ناقص در آنمیش چون حماد کمال خدا را مینگن زیاد خدا کو جمادات کی طرح ناقص اور گونگا خیال نہ کر اور اس کے کمال کو بھول مست تو خود ناقصی و دنی الصفات منه تهمت نقص پر پاک ذات بر محو تو آپ ناقص ہے اور دنی الصفات ہے اس لیے پاک خدا کی پاک ذات پر اتھی ہونے کا عینیت خیالات بیهوده کردت تباہ خود از پائے خود اوفتادی پچاہ بیودہ حالات نے تجھے برباد کر دیا۔ اور خود اپنے پیروں سے چل کر تو کنویں میں جاپڑا سے مل کر کنوئیں