دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 58

+ المراة اتصال بمناقص است نزا گوش بود جرنے بیس است خصوں کے خیالات بھی ناقص ہی ہوتے ہیں اگر تیرے کان میں تو بھی ایک دن نصیحت کے لیے کافی ہے۔انی منتزه از خطا تو مجمه خطا داوری با کم کن و بر حق بیا خدا الغلطی سے پاک اور تو غلطیوں کی پوٹ ہے جھگڑا نہ کر بلکہ حق پر قائم رہ عقل تو مغلوب صد حرص و جو است تکیه بر مطلوب کا باشین است تیری عقل حرص و ہوا کی مغلوب ہے۔اور مغلوب پر بھروسہ کرنا درختوں کا کام ہے ان کس و ناکس بیا موزی فنون | مار داری زمان میکچر ہے چلوں | ت ہر کس و ناکس سے لم یکھتا رہا ہے گرما نانا نی میر سے سکھ نہیں تھے شرم آتی ہے ارد مکتبر راه حق بگذاشتی اینچه کردی اینچہ تجھنے کا شتی تر نے تکبیر کی وجہ سے حق کا راستہ چھوڑ دیا۔یہ تونے کیا کیا، یہ تو نے کیا بیج بویا۔ے مگر ایں ہمہ مولائے ماست کو عطیات ہمارض و سیاست اسے ظالم بھی تو وہ ہمارا آتا ہے میں کی عطا سے یہ سب آسمان اور زمین کی نعمتیں ہیں انیه باران و به و مهر آفرید کرد تابستان و سرما را پدید جس نے بادل۔بارش۔چاند اور سورج پیدا کیے۔اور گرمی سردی کو مظاہر کیا الفضل او فنائے خود خوریم اندہ مانیم و تن خود پر در بیر تا کہ ہم ان کے فضل سے اپنی خوراک کھاتے ہیں۔اور نہ ندہ رہیں اور اپنی پرورش کریں اگر بر تن کرد این مطلب انم کے کند محروم مال را از کرم : میں نے ہمارے بدن پر کال در یکی مربانی کی ہے وہ جان کی بانی وہ اپنے کرم سے محروم کر سکتا ہے تے ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا نے سے حرام کرتا ہے