دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 2
ت ان کی لگی ای جی تی ای کی اور ایک ہی ہیں نے ان کے سانے کا تا دیکھا قرآن کیم کے جو معار و بیان کیا کرتے تھے اور وفضل میں شائع ہوا کرتے تھے وہ ایک دینا پڑھتی تھی اور عش عش کرتی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی وہ پر معارف اور اویر تفسیر وہ کیا کرتے تھے وہ عجیب مروح پرور ہوا کرتی تھی یہی سلسلہ میں انہوں نے بڑے ہیں شروق اور محبت کے جذبات کے ساتھ فارسی در خمین کا نہایت محنت سے اگر دو میں ترجمہ کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی اشعار میں عشق و محبت جذب و خلوص ، معارف و حقایق اور شیرینی و حلاوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہ اہل ذوق حضرات سے شیدہ نہیں جو دور بیانی اور شوکت الفاظ فارسی دری مین کے ہر صفحے میں موجود ہے، بلا ریب متقدمین و متاخرین کی نام منظوم فارسی کتب اس سے خالی ہیں اس بے نظیر دانانی راز کام نے حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کو ان اشعار کے اردو ترجمہ پر راغب کیا تا کہ ار دو دن البته می 5 १ حضرت سلطان القلم کے روح پرور کلام سے تقدیر استعداد فیض یاب ہو سکے۔ ین جو عرصہ کی کاوش اور محنت کے بعد حضرت پیر صاحب مینی اللہعنہ نے مربیان ہ کو ختم کیا۔ اوربہت چاہتے رہے کہ کس طرح یہ کتاب چھپ جائے۔ ان کی ماری کا نہیں ہیں ہی شائع کیا کرتا تھا جب مجھے حضرت میر صاحب نے یہ ترجمہ دکھایا میرا دل ہے اختیار چاہا کہ فرزان چیپ کر منظر عام پر آجائے مگر پنج شستی اور کالی اور یمت اعمال کے باعث با وجود شدید خواہش کے میرا ارادہ عمل کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ ادھلائی عالمہ کو حضرت میر صاحب ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گئے ہے