دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 376

کاش تا دوست راه یافتی فرصت یک نگاه پانتے کاش میں دوست تک پہنچ سکتا۔اور اُسے ایک نظر دیکھنے کی حملت مجھے مل جاتی ! در ای نتی و در عشق بها هم گذاشتی نیمه خبر نشد مال تو سید اشتی که نشد بدل اندر ت پر گیا اور اپنے شق کا در میری جان کیلئے چھوڑ گیا مجھ کو بھی پتہ ہوگا کہ تیرے دل میں یا ایالات تھے تو رحمة الله بان ماه مارچ ۲۱۹۱۰) ے شروع ے شروع ہو ناتواں چہ جوئی زشت و نیم جاں چہ ہوئی از و اسے شوق تو کمزور سے کیا ڈھونڈتا ہے اور زخمی نیم جانی سے کیا چاہتا ہے فتیم و تا شدیم و شمردیم از گم شد گان نشان چه جوئی ز ہم گدا گنے کا ہو گئےاور مرتے اب تو گم شدہ لٹوں کا کیا نشان ڈھونڈتا ہے یار نو بهم یا سر است قریب ترینز جاں ہم اسے اللہ تو از تیتال چه جوانی دوست تو جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔اسے بے و قرن تو بتوں سے کیا چاہتا ہے وقوف پیران نکنند تو به از عشق اسے مخلب از جوان چه بونی بچھے جب بوڑ سے بھی عشق سے توبہ نہیں کرتے تواسے محتسب نے ہوائوں سے کیا چاہتا ہے۔÷ دنیائے دنی است چند روزہ اور احست جادو وال چہ ہوئی راحت چه ذلیل دنیا چند روزہ ہے۔تو اس میں دائمی نوشی کیا ڈھونڈا اینجا بشتاب آنهی دست از مریکہ ارمغاں چہ جوئی اسے فورم یہاں سے جلدی روانہ ہو تو ایک کوڑی میں سے تکالیف کیا ڈھو جاتا ہے۔