دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 376
کاش تا دوست راه یافتی فرصت یک نگاه یافتے کاش میں دوست تک پہنچ سکتا ۔ اور اُسے ایک نظر دیکھنے کی حلت مجھے مل جاتی ! 22 نفتی و در عشق بها نم گذاشتی هیچم خبر نشد بدل اند چه داشتی به تو چلاگیا اور اپنے حق کا در میری جان کیلیے چھو یا مجھے کچھ بھی پر نگاہ تیرے دل میں کیا خیالات تھے ر شهید الانه دان ماده ماریچی ۲۶۱۹۱۰ اسے شروع کر نا تواں چہ جوئی از خسته و نیم جاں چہ جوئی اسے شوخ تو کمزور سے کیا ڈھونڈتا ہے اور زخمی تیم جان سے کیا چاہتا ہے رفتیم و نما شدیم و مردیم از گم شدگان نشان چه جوئی ہم کھاتے کیا ہوگئے اس نے اب تو گم شدہ رہوں کا کیا نشان دھو کرتا ہے نہ یار است قریب فرزند عالی ہم سے ابلہ تو از پتال چه جوانی دوست تو جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اسے بے وقوت تو بتوں سے کیا چاہتا ہے پیرال نکنند تو به انه عشق اے محتسب مانہ جواں چھے ہوئی جب بوڑھے بھی عشق ہے تو یہ نہیں کرتے تو اسے محتسب ایوانوں سے کیا چاہتا ہے۔ دنیائے دنی است چند روزه تو راحت جاور دال چه جوئی دلیل دنیا چند روزہ ہے ۔ تو اس میں دائمی خوشی کیا ڈھونڈتا ہے اینجا نشتاب آنهی دست از مدیلہ ارمغاں چہ ہوئی اسے محروم یہاں سے جلدی روانہ ہو تو ایک کوڑی میں سے تکالیف کیا ڈھو جاتا ہے