دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 375
۳۵ دل شادن بفکرت دنیا باز دارو نو کا رہائے معاد ونیا کی فکر میں دل کو مصروف رکھنا۔ آخرت کے کاموں سے رانسان کی بانہ رکھتا ہے شخص دنیا پرست در دنیا چند روز سے بہر کند دول شاد دنیا پرست شخص دنیا میں چند روز ہی خوشی کے بسر کرتا ہے فضل حق باید دریافت محنت تا بر آید به کذب و شر و فساد خدا کے فضل اور سخت مجاہد سے ہی سے انسان جھور ہے، شرارت اور فساد سے نجات پا سکتا ہے۔ هر که از شهر نفس خویش برست کشمش طاعت است و پورش داد جو اپنے نفس کی شرارتوں سے بچ گیا۔ اس کا گناہ بھی طاعت ہے اور اس کی سنتی بھی انعداوت ہے۔ تشین الاذهان ماه نامه ی ۱۹۱۰) من نه واعظ که عاشق دارم آید از طور و اعتقال عارم میں مواعظ نہیں ہوں بلکہ عاشق زار ہوں۔ مجھے تو واعظوں کے طریقوں سے عار آتی ہے نزد بیگانگاں جنون زده ام از و معشوق نیک همیارم غیروں کے نزدیک میں جنون میں مبتلا ہوں۔ مگر مجوب کے نزدیک بڑا ہشیار ہوں ت شهید الادمان ماه مارچ ۱۶۱۹۱۰ ده در رق قرار آدم دقت و ال امیری این دو شن و چه می رویم نہ مجھے فراق میں میں آتا ہے نہ اصل ہیں۔ حیرانی ہوں کہ لی ہوں کہ میں اس کے عشق میں کیا تلاش کرتا ہوں تشهید الازمان ما و تاریخ ۱۲۱۹۱۰