دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 371
اس سے بشنو از وضع مالمیر گذران جوان کنند اور نسوان حال بیاں اس جہانی نانی کی حالت پر کان رکھ کس طرح وہ زبان حال سے بیان کر رہا ہے۔کہ میں جاں پا کے وفا کند نه کند صبرنا مجدا نہ کند دقا کہ یہ دنیا کسی سے دعائیں کرتی اور میر نبیل کرتی جب جنگ اسے اپنے سے بعد نہیں کرتی گر بود گوش بشنوی صد آه از دل مرده درون تباه اگر تیرے کان ہوں تو تو انہیں سنے۔خود اپنے مردہ اور تباہ حال دل سے که چرا رو باختم به خدا دل نهادم در آنچه گشت جدا میں نے خدا سے کیوں منہ پھیرا۔اور ایسی چیز سے کیوں دل لگایا جو چھلا ہوگئی پچھنیں اتے ترا در پیش گور آواز با دید چول خویش اسی طرح مجھے بھی ایک ایسی گھڑی پیش آنے والی ہے۔قبر مجھے اپنے نویز دل کی طرح جارہی ہے یادگن وقت کوچ و ترک جهان جان باب خانه میپرز شور و نقال کے دو تو دنیا کے چھوڑنے کی گھڑی کی ای را که توان و نگار گرمی اور ان کا شو بر پایگا آه زن بنالد بدیدۂ خوں بار میرے گریڈ انٹریس دیوار تیری بیوی خون کے آنسوؤں سے روتی ہوئی دو بیٹا دیوار کے پیچھے گریہ و تداری کر رہا ہوگا دخترے سریر مینا اشک روال همه خویشان شده آن بیجان چند لڑکی مجھے سر آنسو بہائی ہوگی۔اور سب رشتہ دار مردود کی مانند ہوں گے ناسان با نگ آمد از سر درد که فلان میں سرائے ملت کرد که یکدم یه و یہ یہ درد ناک آواز آئے گی کہ فلاں شخص ہیں دنیا سے گذر گیا