دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 303
تیر د اول نوشتن ماکسی دوست کہ میں را چشمہ سے باد گفت کن الے اور پلے اپنے تئیں ٹھیک کر خود نکتہ چین کی اپنی آنکھ پہلے درست ہونی چاہئیے سنتی کر لکھتے بر ما کند او نه بر ما خویش را رسوا کند لعنت کوئی مرد رو اگر تم پر لعنت کرے وہ لعنت ہم پر نہیں پڑتی بلکہ وہ اپنے تئیں بدنام کرتا ہے لسنت اہل جفا آسان بود سنت آن باشد که در حال بود ظالموں کی لعنت ملامت کا برداشت کرنا آسان ہے اصل لحنت تو وہ ہے جو رحمان کی طرف سے آتی ہے حقیقة الوحی صفحه ۳۳۹ - ۳۷۰) شیری منظری اسے دول سام شیرین علی اے جان جانم کیسا شیرین خصلت ہے ؟ سے میرے مجوب تو کیسا خوبصورت ہے اور اے میرے خدا تو جو دیارم رھے تو دل در تو بستم نمانده غیر تو اندر جانم ہیں نے تیرا منہ دیکھا تو تجھ سے دل لگا لیا اور دنیا میں تیر کے سوا میرا کوئی کر رہا اتقان به داشتن دست از دو عالم مگر هجرت بسوزد استخوانم دونوں جہان سے دست برداری مکن ہے گر تیرا فراق میری ہڈیاں تک جلا دیتا ہے۔در انتش من کسانی نواں داد از هجرت جاں رود با صد فغانم نگ کے ادیان ان آسانی سے ڈالا جاسکتا ہے کو تیری بعدائی سے میری جان آمد فعال کرتی ہوئی نکلتی ہے۔۔ريقة الوحی صفحه ۲۲۲ ۱۳۴۳