دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 302
قدم میں سبب شد این مریم تا هم من ذالکه مریم بود اول گاهی من میرا نام ابھی مریم اس لیے ہوا۔کہ مریم بنتا میرا پہلا بستان در تلخ حق عینی شدم شد ز جائے مریمی بر تر قدم بر پھر میں خدائی تفتح کے سبب سے عینی ہو گیا اور مقام مرکی سے میرا قدم اونچا ہو گیا این بر گفته است رب العالمین کرنے والی برائیں راہیں یہ سب باتیں رب العالمین کی فرمودہ ہیں اگر مجھے علم نہیں تو براہین احمدیہ کو دیکھ حکمت می داد یا وارد ہے کو منور کم فہد کے خدائی حکمت میں بہت بعید ہونے میں نہ باریک نکتوں کو لوگ کم سمجھتے ہیں نم ها فیضان تقی باید نخست کار نے فیضان نے آمید دست قسم کے لیے پہلے خدا کا قیمتان درکار ہے۔بغیر فیض اٹلی کے کوئی کام ٹھیک نہیں بیٹھی تا سا گر نداری فیض رحال را پناه ظلمتی در سر قدم داری براه اگر تو رحمان کے فیض کی پناہ نہیں رکھتا تو تیرے رستہ کے ہر قدم پر اندھیرا ہی اندھیر ہے فیض حقیر یا تفریح کی تلاش ہاں مرد ہوں تو سنے آہستہ باش رابا مرد تو گستہ و زاری کر کے خدا کا فیض تلاش کریم گھوڑے کی طرح بھاگا نہ پھلا جا۔آہت پچھل اے پئے تکفیر لئے تکفیر مابسته کمر خائنات و بیان تو در فکر دیگر دور میں نے جاری کی رہ کر امداد رکھی ہے نیو یا گرور ہورہا ہے گر تو اوروں کی کریں سہی صد هزاران کفر در جانت نهال روچه نالی بهر کفر دیگران کھول کر تو تیری اپنی ہی جان میں تجھے ہوئے ہیں ڈور ہو تو اوروں کے گھر پر کیا ہوتا ہے