دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 27

۲۷ اجمل نے تری زروز باز پرس | یوں تو ترسی از حضور داور سے تو روز قیامت سے کیوں تمھیں ڈرتا۔ ڈرتا۔ انصاف کرنے والے خدا سے کیوں خوف تھیں کھانا افترائے شاں جہاں گشتت یقیں یا خدایت را نموده دفتری ں کے اس اترا پر تجھے کس طرح اعتبار آگیا یا خدانے ہی تیر سے سامنے کوئی دفتر کھول دیا ہے یا انه شال یک عاملی را در گرفت تو ہنوز اسے کور در شور و شرے ہرے ان انہوں ) کے نور نے ایک جہان کو گھیر لیا لیکن اسے اندھے تو ابھی فل و شور میں مبتلا ہے العلن تا مال را اگر کوئی کثیف | ایں چہ کا ہد قدر روشن جو ھرے چک در محل کو اگر تو خواب کہہ دے تو اس سے آبدار میرے کی قیمت کیونکر گھٹ سکتی ہے۔ طعه بر پا کال نه به پا کال بود خود کنی ثابت کہ بستی فاجر ہے اکوں پر طعنہ زنی کی اکانوں پر نہیں پڑتی بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ تو خو اجہ ہے البعض با مردان حتی نامردی است آن بشر باشد که باشد بے شہرے باشد ہے مردان خدا سے عداوت کرنا نا مروی ہے بشر تو وہ ہوتا ہے جو ہے شہر ہو انه در بین کر بہت سوخت است انفس دول را است مید لاغر سے اور جو دشمنی اور نفرت سے جلتا ہے وہ اپنے نفس وٹی کے لیے ایک وبلا شکار ہے اور سے بنتا وہ با اصدرات تمام بنیا صد مراتب به چشم اہل کیں چشم ما بنیا د کور و امورے چشتیم کیہ رکھنے والوں کی آنکھ سے ہزار درجہ اچھی ہیں وہ آنکھیں جو اندھی نا بینیا اور کائنی ہوں ابر سرین و تعصب خاک باد هم بفرق کہیں دوران خاکستری عداوت اور تعصب پر لعنت بھیج اور کینہ وروں کے سر پر ڈھول ڈالی