دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 283

۲۸۳ کار دنیا را چه دیده استی بنا کت خوش افتادست این فانی سرا دنیا کے محل کی کیا رمضبوط بنیا نے دیکھ لی کر تجھے یہ سرائے فائی اچھی لگنے لگی دل چرا عاقل به بند و اندریس ناگهان باید شدن پیروں انہیں عقلمند اس میں دل کیوں لگائے جبکہ یکدم کسی روز اس سے باہر نکل جانا پڑایا از پئے دنیا بریدن از خدا بیس ہمیں باشند نشان اشتقیا دنیا کی خاطر خدا سے قطع تعلق کر لینا بس یہی بد بختوں کی نشانی ہے بول شود بخشهایش حق بر کسے دل نے مائدہ بد نیایش ہے جب کسی پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تم پھر اس کا دل دنیا میں نہیں کھلتا عارف انسان تو مرنے سے پہلے ہی دنیار نوشتنش آید بیایمان تیان تا در و نالو ز بر دستان اس کو تپتا ہوا صحرا پسند آتا ہے تاکہ وہاں اپنے محبوب کے حضور میں گریہ وزاری کرے۔ پیش از مردن بمیرد حق شناس ازینکه محکم نیست دنیا را اساس ہی مر جاتا ہے ۔ کیونکہ دنیا کی بنیاد مضبوط نہیں ہے ہوش کئی ایں جایا جائے تناست با خدا می باش پولی آخر خود است شیروانہ ہو کہ یہ مقام خانی ہے یا خدا ہو گا ۔ کیونکہ آخر خدا ہی سے واسطہ پڑتا ہے ز هر قال کر بدست خود خوری من چیان دانم که تود انشوری اگر تو خود ہی مہلک زہر کھائے تو میں کیڑ کر خیال کروں کہ تو عقل مند ہے یں کہ ابن عبداللطیف پاک مرد ہوں اپنے حق نوشین بر باد کرد دیکھ کہ اس پاک انسان عبد اللطیف نے کس طرح سے خدا کے لیے اپنے تئیں تھا کر دیا۔