دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 281
VAI صد ہزاراں آنے منار استان صد ہزار ان سبیل خونخوار و دماں نہ لاکھوں شعلے آسمان تک بلند ہیں اور لاکھوں خونخوار اور تیر بیل امین آ رہے ہیں صد شبرا مال فرسے کوئے یار دشت پر خار و پایش سر بزند یار میں لاکھوں کو س تک کانٹوں کے جنگل میں اور اُن میں لاکھوں بلائیں موجود ہیں۔اگر این شوخی انسان شیخ مجیم این بیابان کرو نے از یک قدم اس شیخ نجم کی یہ شوخی دیکھ کر اس نے بیابان کو ایک ہی تقدیم میں طے کر لیا این چنین باید گدا را بنده سرلیئے دلدار خود انگور ها خدا کا بندہ ایسا ہی ہوتا چاہیے ہو۔دلیر کی خاطر اپنا سر جھکا دے روپئے دلد اسانه خود مرده بود ازن ہے تریاق میرے خورده بود وہ اپنے محبوب کے لیے اپنی خودی کون کر چکا تا تریاق حاصل کرنے کے لیے اس نے زہر کھایا تھا تا نه نو شد جام این زہرے کے کے رہبانی یا بعدازمرگ آں تھے جب میں کوئی اس زہر کا پیلا ہیں میت ک حتی انسان موت کو اک نکات حاصل کرسکتا ہے دیر این استارت پنال صد حیات زندگی خواهی بخور جاره محلات اس موت کے پیچھے سیکڑوں زندگیاں پوشیدہ ہیں اگر تو زندگی چاہتا ہے تو موت کا میلہ بھی تو که گشتی بنده حرص و ہوا میں طلب دو نفنس مدون تو کجا ؟ تو چو کو حرص و ہوا کا غلام بنا ہوا ہے اس لیے تیرے ذلیل ول میں یہ طلب کہاں ؟ دل ہیں ڈینائے قول آویختی آبروانه بهر عصیاں سختی ! تو نے اس دلیل دنیا سے اپنا دل لگایا اور گاہ کی خاطر اپنی دوست برباد کر دی