دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 281 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 281

YAI صد ہزاراں آنے کا آسمان صد ہزارسال پسیل خونخوار و ومال نکھوں شعلے آسمان تک بلند ہیں اور لاکھوں خونخوار اور تیر میلا میہ آ رہے ہیں عد ہراساں رستے کوئے یار دشت پر خار و برایش صد برادر کو چھا یار میں لاکھوں کو سی پیک کانٹوں کے جنگل ہیں اور اُن میں لاکھوں بلائیں موجود ہیں جگر این شوخی انسان شیخی مهم این بیاباں کر طے از یک قدم | اس شیخ عجم کی یہ شوخی دیکھ کر اس نے بیابان کو ایک ہی قدم میں طے کر لیا این چنین باید خدا را بندہ سر لئے دلداری خود انگند کا خدا کا بندہ ایسا ہی ہوتا چاہیئے ہو دلبر کی خاطر اپنا سر جھکا دے او پیئے دا اسانه خود کرده بود انے پئے تریاق زہرے خورده بود وہ اپنے محجوب کے لیے اپنی خودی کو فنا کر چکا تھا تریاق حاصل کرنے کے لیے اس نے زہر کھایا تھا تا نه نو شد جام این زیرے کے کے رہائی یا بد از مرگ ہوں جسے جب نہیں کوئی اس زہر کا پیالہ نہیں پتا تب تک حقیر انسان موت سے کیونکر نجات حاصل کر سکتا ہے۔ دیر این است است پندل صد حیات زندگی خواهی بخور جام مات اس موت کے پیچے سینکڑوں زندگیاں پوشیدہ ہیں اگر تو لاندگی چاہتا ہے تو موت کا پیالہ پی تو که گشتی بنده حرص و ہوا میں طلب در نفیس مردن تو کجا با تو چو کہ حرص و ہوا کا غلام بنا ہوا ہے اس لیے تیرے قلیل ولی میں یہ طلب کہاں ؟ دل میں دنیائے فول آربیتی آبرو انہ ہر عصیاں ہما ای تو نے اس دلیل دنیا سے اپنا دل لگایا اور گاہ کی شام سیقی را