دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 280

ین گونه اختیار کسی به دست گرشا در به او نشان بزدا دارم را اگر و نشان کسی کے اختیار میں نہیں ہوتے گر میں خدا کی طرف سے ایک نشان کا پتہ بتائم ہوں بھی که آن حید طالون نجات خواب ریاست کو حست بیست پنا ہے چار بیارم بی تو دہی خوش قسمت شخص طاعون سے نجات پائے گا یو جھپٹ کر میری چار دیواری کے اندر پناہ لیگا مراسم ناوی خوایش و عظمت او کو بست این نماز چی پاک گفتارم مجھے اپنے ملک کی اور اس کی دیگی کی سی ہے کہ میری یہ سب باتیں خدا پاک کی وہی سے ہیں قسمہ ها نیست بحث گرمی کا نیست لئے آکر می شد دش به انکارم سی شه نزد۔کسی اور کیٹ کی کیا ضرورت دینے کے لیے میں اول میرے نکار کی وجہ سے تاریک ہو چکا ہو ہی بات کافی ہے اگر دورش به آید هر آنچه والده من سد است گریم نیز به به کارم بودھ میں کی ہوں گروہ جو بات بہت ہوتو بے شک جانا ہے کہ سب مجھ سے لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں کشتی تورج صفحه 1 آن جا فرد و جیب کردگار جو بر خود کرد آخته آشکار اس جوانمرد اور خدا کے پیارے نے آخر کار اپنا جوہر ظاہر کر دیا نقد جان اور پھر جاناں پاخته دل ازیں کافی سرا پرداخته معشوق کے لیے نقد جان لٹا دیا اور اس خانی گھر سے دل کو ہٹا لیا ر خطر است این بیابان حیات صد بنا را از دایش درجات زندگی کا میدان نہایت کچھ خطر ہے اس میں ہر طرف لاکھوں اڑو سے موجود ہیں