دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 278

الماده اولی این زمان و وقت آورد و چیستی که د تورو این فضا باشد خدا کا انکی ارادہ یہ زمانہ اور ہر وقت لڑرہا ہے تو ہے کیا چیز کہ اس فضا و قدر کو چٹ دے کا اراد به اور ہر ہے تو کہ فضا کو مروب به خوردی نزد ملی و نشی که ظل اہل صفا موجب شقا باشند۔ بے وفائی سے چلا نہ چا بلکہ ہمارے پاس آکر بیٹھے کہ اہل اللہ کا سایہ شفا کا موجب ہوا کرتا ہے تقیم حلقہ بار باش من سے چند مگر عنایت قادر گره گشا باشد کچھ دن ٹیکوں کے حلقہ میں آکر بسر کر شاید اس مادر کی قربانی تیری گرہ کو کھول دے حلق میں برک اس امداد کی قربانی گری و ہے بستہ رائے کے ہوئے ما آئی ہے نصیب تو گر شوق و التجا باشد کیا جانا ہو گاجب تمہاری طرف آئے گا ہے ہم اگر مجھے شوق اور آزاد پیدا ہوجائے و را که تو نفیس خود کنی هیات هزار حیف این فطنت و کا باشد فسوس کس قدر مظالم تو اپنی جان پر کر رہا ہے ایسے ذہن اور سمجھ پر ہزار افسوس چه ما است که پیچی کنی تالیفات که امتحان دعاگو هم از دعا باشد کیا ضرورت ہے کہ تو کتابیں تصنیف کرنے کی تکلیف اٹھائے کیونکہ دن کا امتحان بھی دعا ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ ہوئے یا کہ ہرگزنہ رکھتے خواتم مگر اعانت اسلام مدعا باشد خدا کی قسم میں ہرگز کوئی عورت اور مرتبہ نہیں چاہتا میرا مطلب تو صرف تائید اسلام ہے سیاه با رای بخت من اگر به دلم در عرض بجز از یار آشنا باشد میری قسمت کا منہ کالا ہو اگر میرے دل میں سوائے خدا کے اور کوئی خوش ہو مو خلاص کجا باشد آن سیه دل را که با چین دل من در پے جغا باشد اس بیا مول انسان کو نجات کیونکر مل سکتی ہے جو میر سے پیسے دل والے پر ظلم کرنے کے درپے ہو