دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 276
کھولے کہ در خشیت خدا باشد کجاست مردم چشم که با جا باشد ریسا دل کہاں ہے میں میں خدا کا خوف ہو اور ایسی پہلی انکھ کی کہاں ہے جس میں شرم دیا ہوا ہے۔ جلہ ومنصب دنیا دانہ اسے بہشیار که این تنتقم و عیشت نه دائما باشد دنیای دوست اور مردوں پر اسے سمجھ دارد انسان تازہ نہ کر کہ تیرا یہ عیش و آرام دائمی نہیں ہے واب داند و این فت خوش که یاری می داد که این حال را با با شد تیرا ہر اچھا زمانہ خواب کی طرح گند جائے گا یہ امید بہت رکھ کہ یہ حال ہمیشہ ہی طرح باقی رہے گا نازے کنی و قبلہ رائے دانی داشت پر شرم میں نماز با با شد تو نماز پڑھتا ہے مگر قبلہ مقصود سے فائل ہے میں نہیں جانتا کہ میں نہیں جانتا کہ ایسی نمازوں کا کیا فائدہ ہے نه دیده خون بچکاند سماع قصه حشر بشرط آنکه بدل خشیت خدا باشد محشر کا ذکر سننے سے آنکھیں خون آلودہ ہو جاتی ہیں بشرطیکہ دل میں خدا کا خوف ہو نفس تیرہ بنائے وصل أو هبات رسید یہاں بخدا کو د خود فنا باشند قب بیان کے ساتھ خدا کے وصل کی آرزو افسوس کی بات ہے ہر اک تو وہ پہنچتاہے جواپنے آپ کو اس کی راہ میں شاکری قدم منزل شما نیاں بند کہ جنہیں جهان و کار جہاں جملہ ابتلا با شد دو مائی لوگوں کی منزل میں قدم رکھ کے بغیر اس کے دنیا اور دنیا کے سب کام ابتدا ہی ابتلا ہیں جائے خوب شد این عیش مافی است هنگ مرگ پو هر لحظه در فضا باشد ی آرام کی تیر اور امن اور عیش و عشرت کی جگہ کب ہے جبکہ موت کا گر مجھ ہر وقت پیچھے لگا ہوا ہے کیا استناد کار بد استنی است در محبوب چه خوش رھے کہ گر تھا اور با باشند محبوب سے دل لگاتے ہیں ساری کامیابی ہے کیا حسین چہرہ ہے جس کا قیدی آزاد ہے