دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 274
۲۶۴ ے ہیں کہ نور بریں خاندام ہے بارد ر عما باشند دیکھ تو سہی میرے اس گھر باندھ برس رہا ہے لیکن اگر تو تا بینا ہو تو کیونکہ دیکھ سکتا ہے ہے را که بچو زنان کاری نیت مست دیوان چگونه در دل تو میل راهندا باشد ی کا کام اتوں کی طرح مر ایرانی کی ہے تیرے میں ایک این کارا پا سکتی ہے دائے بانشتے آنا انوار را بر باد که جان شمال به دین من قدر با نشد امی لوگوں کے ایک بازو پر ہزار نہ ہر قربان ہوں جن کی جان دین کی پر کیا ہے گرفتگان محبت میستوران جمال روندگان رہے کال رہ نما باشد وہ خدا کی محبت کے امیر اور اُس کے حسن کے پجاری ہیں اور اس راہ پر چلنے والے ہیں جو فنا کا راستہ ہے وقت با پایان میدانست که تنی بر سر سرین آشناها شد ہی کا عام قالت میدان کار زار کا وہی پہلوان ہے نفیس کے سر پہ تلوار ہے اور سر خدا کے حضور میں ہے جهان تواند شناسی حال مروال را که خصلت بهم چون مصلحت نما باشد۔ توجہ المردوں کے اخلاق کی قدر کیا پہچان سکتا ہے کہ تیری تو سب خصلتیں عورتوں کی بھی نہیں همانی ها و جان روشان شان این است که پیش چشم تو یک اش زبور یا با شد ان کے نزدیک دنیا اور دنیا کی موت پہیلی حقیر ہے جیسے تیری نظر میں بوریے کا ایک تر قابل بانکے شمال نیاد د کرو کور او د خو این نور از خدا باشد چاندی ان کے منہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا نور سورج سے ہے اور ان کا نور سدا سے حضرت عمرے آب و همه دارند مامان گرند شان خارق استما باشند لوگ بارگاہ خداوندی میں صاحب کوستا ہیں اور ان کی آہ وزاری کی دعا آسمان کو پھیر دیتی ہے