دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 273
۲۷۳ ما کار خانه قدرت ہزار با نقش اند مگر تجلی رحمان نقش ما با بانش اندر باشد قدرت کے کارخانے میں ہزاروں نقش ہیں۔ اگر رحمن کا جلوہ صرف ہمارے نقش سے نظر آتا ہے ہزاروں اگر منی کا اور مفت پارس پانی سے آتا ہے بیایدم که رو صدق را در خشانم داستان داستان برم برم آن راکه را که پارسا باشند باشد نہیں اس لیے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دولبر کے پاس اُسے لے پھلواں ہو نیک و پارڑھا ہے بیادم که د علم در شد بکنیم بجا نیز نمایم که در ماه باشد در میں اس لیے آیا ہوں کہ علم و ہدایت کا دروازہ کھولوں اور اہل زمیں کو وہ چیزیں دکھاؤں جو آسمانی ہیں ترانے اسد اشکال ما که نامردی تو با زنان پیشین گر تا حیا باشد تجھے مارے انکار کا حق نہیں کیونکہ تو نامرد ہے تو مورتیوں کے ساتھ بیٹھ اگر تجھے کچھ شرم ہے دل ہمام نے حمایت دیں نون سیم و کور این چاهتدا باشد میرے گداز شد دل مرجانه مان ودول دین کی حمایت کے لیے گراز ہو گئے گر تیری آنکھ اب بھی اندھی ہے یہ کیسا ظلم ہے۔ رای شما گران میں و عدم گیرد که بردست دل برای پنے ہوا اشد مجھے کیا فکر ۔ اگر ولین ۔ اگر ولین معدوم ہو جائے کہ تیر اول تو ہر لحظہ حرص و ہوا کے لیے کہاب ہو رہا۔ تو خود علت بیگانگی شدی مجبور در نه از دور او هر طرف صلا با شد تو بے تعلقی کی وجہ سے خود ہی دور ہو گیا در نہ خدا کے دروازہ سے تو بلانے کی آواز ہر طرف جاتی ہے۔ ور ہے چرا شکایت رمال کنی به نادانی تومان باش که انار دریا باشد تور رمان کی شکایت معانی کی وجہ سے کیوں کرتا ہے تو پا کہ ازبین تا کہ ادھر سے بھی صفائی کا سلوک چنین با چنین در این چنین برکات تھے نصیب کی رو چه این شقا باشد باشد ہوا ا وقت ایسا اور ایس ایسی برکتیں پھر بھی گر تو بے عیب رہے تو اس بدنیتی پر کیا عجیب ہے۔