دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 273

۲۷۳ کار خانہ قدرت هزار با نقش اند مگر تجملی رحمان و نقش ما باشد قدرت کے کارخانے میں ہزاروں نقش ہیں۔گر یمن کا جلوہ صرف ہمارے نقش سے نظر آتا ہے۔بیایدم که روند را درخشانم بوستان برم آن را که پارسا باشد نہیں اس لیے آیا ہوں کہ صدقی کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس اُسے لے چلوں ہو نیک و پاڑتا ہے بیادم ا دوم که در علم درد بکشانیم بخاک نیز نمایم که در سا باشد ں سے آیا ہوں کہ م م رات کا دروازہ کو اور بال زمیں کو چیری د ماموں جو آسمانی ہیں ترانے رسد اشکال ما که نامردی تو بازنان نیشین گرفتا حیا باشد تجھے مارے انکار کا حق نہیں کیونکہ تو نام ہے توعورتوں کے ساتھ بیٹھ اگر تھے کچھ شرم ہے گزار شد دل جانم بی حالیت دین ممنون میشم تو کورای امند باشد نام گرای دینی و عدم گیرد که به متقال رایا نے وا باشد جھے کیا انکہ اگر ین معدوم ہو جاے کہ تیر دو تو لحفظ حرص و ہوا کے لیے اب ہو رہا ہے۔اول تو خود علت بیگانگی شادی مجبور درگرفته از دیر او بر طرف صلا باشد ت تھی کی وجہ سے خودہی دور ہوگی اور خدا کے دروازہ سے تو جانے کی آواز ہر طرف جاتی ہے چرا نشکایت رحال کنی به نادانی اتومات باش که نانا رومینا باشد تو ان کی شکایت تعالی کی وجہ سے کیوں آتا ہے تو ا کہ ا ین تا کہ ادھرسے بھی صفائی کا سلوک ہوا ین این دراین چنین برکات تو نصیت وی و هوای شقا باشد یہ وقت ایسا زمان اور ایسی ایسی برکتیں پھر بھی اگرتو بے نصیب رہے تو اس بد بختی پر کیا تعجب ہے۔پر کیا تھا -