دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 272

۲۷۲ مانگیش به همان تقی شدست گذر مقام من همین تدریس در اصطفا باشد للہ تعالے کی رضا کے باغ میں میرا گذر ہوتا ہے۔میرا مقام بر گزیدگی اور تقدیس کا چھنی ہے۔کال پاکی وصندق مارگ شده بود دوباره انتن و د نه من بیا باشند پاکیزگی اور صدق و صفا کاکمال جو معدوم ہوگیا تھا وہ دوبارہ میرے کام اور وعظ سے قائم ہوا ہے رج از مخمر ایک سخت بے خبری که این گفته ام از وحی کبریا باشد الے شخص جو انکل ہیر ہے میری بات سے امان نہ ہو کہ میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے کیا گم شده از خود خوری پوست هر آنچه از دنیش شینوی بجا باشد ہر شخص اپنی خودی کو چھوڑ کر خدا کے نو میں حاملا اس کے منہ سے نکلی ہوئی سہ رات بھی ہوگی نیا روم نے جنگ کارزار جهاد غرض زر آمدنم درس انتقا باشد میں جنگ و جدال اور جہاد کے لیے نہیں آیا میرے آنے کی غرض تو تقوی کا سبق پڑھاتا ہے۔بن کر شات این کمال رضا دادیم این فرض که بر نمینی بقا باشد ہم وقت کی خاک اور لوگوں کی لعنتوں پر راضی ہو گئے اس لے کر بیتی کا پھل یا ہوا کتا ہے درمان من مهر پر از محبت نو ایست که در زمان ضلالت از دنیا باشد میرا باطن میں نور کی محبت سے بھر پور ہے جس اسے گمراہی کے زمانہ میں روشنی ہوا کرتی ہے۔ور میری خوش بخش روانی نیست بود و او همه امراش را دورا باشد اس کے چہرہ کے عشق کی قید کے سوا کوئی آزادی نہیں اور اس کا دروہی سب بیماریوں کا علاج ہے۔عنایت کرش پر درد مرا هر دم بینی اش اگر چشم خویش وا باشد اس کا فضل و کرم بوقت میری بندش کا ہے اگر تیری ہتھیں کھلی ہی تو تھے یہ بات نظر آجائے گی