دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 271
وین خطاب مرا برگرد اتفات نبود به همین جو چنین حکم ان خدا باشد مجھے اس خطاب کا اگر کوئی شوق نہ تھا کی میرا کیا قصور ہے جب کہ خدا کی طرف سے ایسا ہی حکم تاج و تخت زمین آرزو نم دارم که شوق افسر شاہی بدل مرا باشد یں کسی دینی تاج و تخت کی خوہش نہیں رکھتا نہ میرے دل میں کسی بادشاہ تاج کا وقت ہے مرانین است که ملک سما بدست آید کہ ملک ملک میں رابقا کا باشند یرے لیے یہی کافی ہے کہ سمانی بادشاہت ہاتھ آجائے کیونکہ زمینی ملکوں اور جائدادوں کو بتا نہیں ہے حالت پلاک کرده اندرو از نخست کنوں نظر فتاری ہمیں چھرا باشد کھوں نظرفتاری یک خدا نے مجھے روز اول سے ہما کے اوار کا یہ تو ہوا اور پانی پر میری نیکی کر پڑسکتی ہے مراکه مشت علیاست مسکن د مادی چرا بر پای این نیب جا باشد جب کہ میں اسکی دیم ولی جنت الفردوس ہے تو پھر میرا ٹھکانہ اس گڑھے کی کوڑی میں کیوں ہوں اگر مال بر ترین کند چه نے که امن است قدری کی داخلی باشد ارا ایمان بھی میری تحقیر نے مجھے کا تم کو میرے ساتھ وہ قادر دا ہے جوبڑی بزرگیوں والا ہے منم میسج زمان دستم کلیم خدا منم محمد احمد که مخیتی باشد دوستم میں ہی مسیح وقت ہوں اور میں ہی حکم خدا ہوں میں ہی وہ محمد اور احمد ہوں جو بھتیجی ہے ه به استکبار به میهمان نادان که جنگ اور کلیم فی از هوا باشد ان کے کلام سے بھی بارہ ادا ہے میں کیا ای خدا کے کلی کے ساتھ ہونے نفس کے تحت ہو انان قفس به پیری میری دل کو دنیا نام کتوں کینگروہ عرش جائے ما باشد میں اس بیوہ سے مل کر اور چکا ہوں میں کو نام کا نیا ہے اب توش کے انگلی پر بہاری جگہ ہے کرے تو