دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 261

좋고 ہر کسے دیتے یہ داما نے زند ما به ذیل حتی و فیتوم واحد ہودا نے اما به دلیل تی و تقویم واحد ہر شخص کسی نہ کسی کے دم کو پڑھتا ہے مریم نے سی و قیوم اور کیا خدا کے وائس کو پڑا ہے 시 ارا اسے دریا قوم من نشناختند نقد ایمان و رصد با باختند افسوس میری قوم نے مجھے نہ پہچانا اور ایمان کی دولت حد سے برباد کر دی این جان پرستم کوره دکر است چشم شان از شهر روال کمتر است یہ ظالم دنیا ال جی اور بری ہے اس کی آنکھیں اُتوں کی آنکھوں سے بھی گئی گندی ؟ وره بودم مرا بنواختند چون خود گشتم ز چشم انداختند ہیں اس لیے کہ جب میں ایک تہ تھا تو انہوں نے میری موت کی مگر جب میں سورج بن گیا تو انھوں نے مجھے اپنی نظر سے گرا دیا ز تحفه از تو یه صفحه مطبوعه ۱۶۱۹۰۲ مان تقع بشر کال از خدا باشد که با نشان نمایاں خدانها باشد انسانوں میں وہی خدا کی طرف سے کامل ہوتا ہے جو روشن نشانوں کے ساتھ خدا تھا ہوتا ہے ا برای او توشی و صدق و و نا خلق او کرم و قربت و یا با شد اس کے چہرہ سے عشق اور صدق و صفا کا نور کہتا ہے کرم کا اور جیا میں کے اخلاق ہوتے ہیں صفات او پر خالی صفات حق باشند همه استقامت او بچه انبیا باشد اس کی ساری صفات خدا کی صفات کا پر توہوتی ہیں اور اس کا استقلال بھی دنیا کے استعمال کی ماند ہوتا ہے وان کشمیر او بر سر دری باشد میان می آیم دانش نے کبریا باشد اس کے سر شیب سے لادی فیضان کا مندر جاری ہوتا ہے اور اس کے پھر میں خدائے بزرگ کا چہرہ نظر آیا ہے