دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 252
۲۵۲ کر مرنوین بر راندو نے ولرم آن مری که نکنم اس دل کجا برم اگر میں اپنی محبت کواپنے پیر کی جانب کھاوں پھر اس محبت کو کس سے لگاؤں اور میں دل کو کہاں لے جائوں ان ما می کشیم بند رند نے دوست اور پیر اینکه تبر بیاید را برم من میں وہ نہیں ہوں کہ دوست کے چہرہ کی طرف آنکھ بند کروں خواہ مجھے نظر آتا ہو کہ شیر سیدھا میری ان آرہا ہے۔ نرسید رایشگر ارمنی ۱۹۰۲ ۶) طر می بازد چو یاد آورم مناجات شوریده اندر حرم میرادل کا چھنے لگتا ہے جب میں یاد کرتا ہوں ایک عاشق کی مناجات کو جو اس نے حرم میں کی تھی رالحکم ، ارمئی ۱۶۱۹۰۲ از برایش محمد احسن را ارو الهامی شعر تارک روز گار می بینیم میں اس کی خاطر محمد احسن کو روزگار کا تارک دیکھتا ہوں د اختبار القادریان یکم ستمبر ۱۶۱۹۰۲