دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 246
۲۴۶ ریا رائے بے نیاز سخت تمارے دارم که بیند خدا سے کو کارے لوگو ایسے نیاز اور فنار خدا سے ڈرو ہیں ڈرو ہیں نہیں سمجھتا کہ منتی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھاتا ہوں۔ را در می آید که با اگر اس سروے مے ترس ازاں ایسے کہ فارست و سای مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ شخص کبھی رسو جو اس بار سے ڈرتا ہے جو غفار و ستار ڈرتا ہے ہو غفار و ستار ہے بھی رسوا ہوا ہو جو اُس یا اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے ۔ تو حصول دنیا سے رو رو کر توبہ کرتے رتابل برگشت است ان بد کاری مردم میں ملعون ہے اردو پے تخویف و اندار لوگوں کی بدکاریوں سے چکتا ہوا سورج کبھی سیاہ ہو گیا اور نہ بہین بھی ڈرانے کی خاطر طاعون لارہی ہے تشویش قیامت از این تشویش گرینی علیجے نیست برفع اس جو سن کرداری بارداری چول یہ مصیبت قیامت کی مانند ہے اگر تو نور کر سے اور اس کے دور کرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور کچھ نھیں - ای این میزان جناب عرفت و غیرت کارگر را برکت دریک سے جو کرم بیکاری اس بارگاہ عالی سے کرتی نہیں کرنی چاہیے اگروہ چاہے تو ایک دم میں کے کیڑے کی طرح مجھے فنا کر دے من ان مادیات گفتم تو خود مه گر کی باری خود ایران است ای دانا بیجار میں نے ہمدردی سے یہ بات کسی رہے اب تو خود غور کر لے اسے سمجھ دار انسان عقل اسی دن کے لیے ہوا کرتی ہے ایام اصلح صفحه ۱۲۲ مطبوعه ۱۸۹۹ء) سے تیری وفاقی ارض و سما سے رحیم و سران و دانما سے نادر اور آسمان نیم اسمانی زمین کے پیدا کرنے والے بلا سے رحیم - مہربان اور رستہ دکھانے والے