دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 246

Hey تریان ندائے بے نیاز تخت تمہارے نام کہ جنید خان سے کو کالے لوگ ایے نیا نہ اور فنار خدا سے ڈھو میں نہیں سمجھتا کہ منتی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھاتا سر ابا نے ایک کا اگر میں مردے تھے ترس ازاں ایسے کر فقامت ہی ہے مجھے یقین نہیں آتا کہ د شخص کبھی رسوا ہی ہو جو اس یا ر سے ڈرتا ہے ہو غفار و منشار ہے گران درک ہے میمونیال نیز دینٹ دیا تو کرن نے یہ نا ہو تو اسے اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے۔تو حصول دنیا سے رو رو کر توبہ کرتے اگروہ فوز تبان گشت است انید کاری مردم میں ظلمون سے آر دیتے تخویف داند است لوں کی بدکاریوں سے کیا ہو اور بھی سیاہ ہو گیا اور نہ ہین بھی ڈرانے کی خاطر اعوان لارہی ہے ی تشویش قامت از این تشویش گرینی اعلام قیمت برفع اس وجن کرداری یعیت قیامت کی مانند ہے اگر تور کہ سے اوراس کے دورکرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور کچھ تھیں۔ای این مراں جناب عزت و غیرت گیا کند یکه و کریر یکی است مان بندی متر ون پر ترکی با دوام برای استان دانا بیماری میں نے ہمدردی سے یہ بات کسی ہے اب تو خود دور کر کے اسے سمجھ دار انسان بفضل اسی دن کے لیے ہوا کرتی ہے دریایم اصلاح صفحه ۱۳۲ مطبوعه ۹۹ ۶۱۸) ے تقدیر و نان ریش و سام اے رحم و مروان و دانما وخالق ارض اسے قاد۔اور آسمان زمین کے پیدا کرنے والے اسے رحیم۔مریان اور رستہ دکھانے والے اور رشتہ