دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 230

ول پر اس ام اس پریشر مقعیت اداریاں دور تر اُن کے دل خیانتوں سے پر ہیں اور ان کے باطنی شرارتوں سے نیک نیتی ان سے بہت دور ہے سخت نیست چه باشد در دلے کے متن اوقت ہوں پہلے جب دل میں نیک نیتی ہوتی ہے تو دو صدق کے پھول پر جھیل کی طرح کرتا ہے بر شرارت ہانے بند د میاں از سدانہ دانائے اسرایہ نہاں شرارتوں پر کرنیں باندھتارہ پوشیدہ بھیدوں کے جانے والے سے ڈرتا لیکن دی ہے و لیکن ایں بے باکی و ترک حیا افترا افترا افترا بے باکی اور ہے۔اقتها بالله این نه کار دوستان و ایفی است و این نه خوئے بندگان با حق است یہ ایان اول اور پر ہر سال کا کام نہیں ہے کہ یہ پاک دل بڑنگ کی خصلت ہے بر که او هر دم پرستار ہو من جہاں دانم که ترسید از خدا دہ جو ہر وقت اپنی خواہشوں کا غلام ہے میں کیونکر جانوں کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے خویشتن را انک اندیشیده اند ائے این مردم چه بد نمی داند انھوں نے اپنے تعلی نیک خیال کر رکھا ہے انہیں ان لوگوں نے کیسا فعل بجھا ہے ان فضلا ہے تبارع نفق اعراض از خدا بس ہمیں باشد فستان اشقیان ور نفس کی پیروی اور بندا سے روگردانی بھی یہی بدبختوں کی نشانی مرکز نیسان نبش در بانش بود کا نرم گر ہوئے ایمانش بود جس کے دل میں ہیں طرح کی گندگی ہے اگر اس میں ایمان کی بو بھی ہو تو پھر میں کا قرا ہوں ہے ༨