دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 229
۲۲۹ ارغ افتادم بدوانه عره جاه دل تو کف دار فرق افتاده کلاه اس کے عشق میں میں مقتصد جادہ سے متمنی ہو گیا۔ دل ہاتھ سے جاتا رہا اور سر سے ٹوپی گر پڑی مین این بیتال که ن نال استان تافته سر این پی کذب نامتقال سرابی چکذب انتقال مجھ پر یہ اخترا کہ میں اس درگاہ سے روگردان ہوئی۔ مقامی لوگوں کا یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ سر تا پیناں مہرمن چوں منے سنت حق پر گمان و شمنے کیا میرے جیسا شخص اپنے اس چاند سے وہ پھر سکتا ہے شین کے اس خیال پر خدا کی لعنت آل مهم کاندر وآل سروری در میان خاک دونوں بیٹی سرے میں تو وہ ہوں کہ اس سردار کی راہ میں تو میں سر خاک اور خون میں تھوڑا ہوا دیکھے گا تی گربار و بکرئے آں نگار آن منتر کا قول کند جہاں سائشہ سی این کا کند شار اگر اس محبوب کی گلی میں تھی پہلے ترمیں وہ پہلا شخص ہوں گی جو اپنی جان قربان کرے گا کر میں کفر است زوئیں دورے خوش نصیسے آل کہ چوں من کافر سے اگر دشمن کے نزدیک یہی کفر ہے تو وہ بڑا خوش نصیب ہے میری طرح کا کافر ہے ارم گفتند دخیال و لیں مین تالار این چایان است ہیں ان لوگوں نے مجھے کافر و جہال اور لعنتی کیا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کونسا وہیں دوا دین وایمان ہے این سیتا نے شائیوں شکم است و پیر شال گردے بیوہ سے کجاست ان کی یہ طبیعتیں تھر کی طرح سخت ہیں۔ ان کے پہلو میں اگر دل ہے ۔ تو دکھاؤ وہ کہاں کا بہ بیاں ہر زمانے اختر است یار انبیاں ہر دے حرص و ہوا است ہے ان لوگوں کا کام ہر وقت افترا پردازی ہے اور مومی و ہوا ہر دم اُن کی رقیق ہے