دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 228

۲۲۸ میں وسیم کی ہمداند آن جمال مبان من قربان اس شمس الکمال جس عمر میری آنکھیں اس کے من کو جانتی ہیں کوئی نہیں جانتا میری جان تکمالات کے اس سورج پر فرمان ہے ۔ مچنین عشقم بروئے مصطفے دل پر چوں مرغ سوئے مصلے ایسا ہی شق مجھے مصطفے کی ذات سے ہے میرا دل ایکس پر زدہ کی طرح مصطفے کی طرف مڑ کر جاتا ہے۔ تا ما دارند از حقش غیر شد دلم از عشق او زیر و لیبر مرا خبر جب سے مجھے اُس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اُس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے منہ سے میں بہت آس و لبرے جاں قائم گرد ہر دل دیگرے ۔۔۔ میں اس دلیر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں۔ اگر کوئی اسے دل دے تو میں اس کے مقابلہ پر جان نثار کر دوں ساتی مین بہت ہوں جاں پر سے ہر زمان مستم کند از سا رے وہی روح پرور شخص تو میرا ساتی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے حملے کے لو شد است ہیں ہوئے من ہوئے او آید زیام و گوئے من میرا چہرہ اس کے مچھر میں مو اور گم ہوگیا اور میرے مکان اور کوچے سے اسی کی خوشیو آر ہی ہے بسکه من در عشق او ستم نہاں | من همانم۔ من بمانم من جہاں انہ بسکہ میں اس کے عشق میں غایب ہوں ۔ میں وہی ہوں۔ میں وہی ہوں۔ میں وہی ہوں جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عبال شد آن و کار میری روح اس کی روح سے بنا حاصل کرتی ہے اور میرے گر یہاں سے وہی سورج مکمل آیا ہے اب احمد ندر جهان احمد شده پدید اسم من گردید آن اسم وحید احمد کی جان کے اند احمد ظاہر ہو گیا اس لیے میرا د ہی نام ہو گیا جو اس الا نانی انسان کا نام ہے