دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 218
۲۱۸ ا ال کر گشت کوچه جانان مقام شمال شبت است بر جریده عام شت است بر جید عالم دوامی شمالی وہ اور بھی کی جائے رہائش کو یہاں بن گئی ہے اس جہانی کے دفترمیں ان کا نام ہمیشہ بہت رہتا ہے۔ ر تیره گوش نده شد عشق میر کے کویت را برای شان اش شی نہیں مرتاجی کلول عشق ہے زندہ ہو گیا متزاوہ ہے جس کا مقصد ان عاشقوں جیسا نہیں ہوتا الے موہ دل کوش اپنے نا اہل دل جل مقصور قیمت نعیمی کلام شال لگا ے وہ دل صاحب اوں کی خدمت کی کوش نہ کر اپنی تاوانی کی وجہ سے ان کا کلام نہیں سمجھ سکتا دست بین صفحه ۱۶) تو یک قطره داری و عقل و خرد مگر فقد تنش بحر بے حدد عد و قدرتش و عمد تیرے پاس تو عقل اور دانائی کا صرف ایک نظرہ ہے لیکن خدا کی قدرت بے پایاں سمندہ ہے ۔ اگر میشنوی قصه صادقال همینان سر خود پر مشتریان جب تور استبانوں کے حالات سنے تو چاہئے کہ اپنا سٹھٹھا کرنے والوں کی طرح ہلائے تو خود را خرد مند فهمیده مقامات مردان کجا دیده تو خود کو عقلند سمجھتا ہے۔ مگر تو نے فرمان خدا کے مقامات دیکھتے ہی تھیں است بین ۳) قدام که این عهد و پیمان کنم که جان در رو خلق قربان کنم مجھ نہیں یہ طاقت ہے کہ یہ عہد اور بیان کروں ۔ کہ مخلوق کے لیے اپنی جان قربان کر دوں گا لے حافظ شیرازی کا مصرع ہے