دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 217
لیکن ستا لیکن این مرد خدا اہل صفا کو کردو از کتب تو سے سائے یہ مرد خدا اور اہل صفا انسان جس نے ایک قوم کو جھوٹ سے آزاد کیا گفت مر جاتے دونش شد پدید | قادر است او جسم و جاں را آفرید رانا ہے کہ ہر رحمت خدا کے ہاتھ سے ظاہر کرتی ہے۔ وہ قادر ہے اسی نے علیم اور روح کو پیداکیا ہے فکر کن در گفته این خامه فال روچه تالی بر دید آریاں تو بھی ان عارفوں کی باتوں پر نور کر آکر یوں کے وید کے لیے کیوں روتا پھرتا ہے۔ آرای مرد بارد نانک عارف و مرد خدا | راز ہائے معرفت را ره گفتار مانگ ایک | ں کو کھولنے والا عارف اور با خدا مرد تھا۔ اور معرفت کے بھیدوں کو کی دید شمال را و معارف دور تر زیادہ کی مہما نجانے ہے ہر دید اس سحقایق و معارف سے بہت دور ہے وہ ہے بہتر تو عادت کی تعریف بھی نہیں جانتا این نصیحت گرزه پیک بشنوری در در عالم از شقاوت با رسی اگر تو نانک کی اس نصیحت کوئی ہے تو دونوں جہان میں پانی سے نجات پائے او نه از بود گفت این گفتار را گوش او شنید این اسرایه را اس نے اپنے پاس سے یہ بات نہیں کی بلکہ اس کے کانوں نے وفد کی طرف سے، اس راز کوستا ہے دید ما از تزریق محور یافت از خدا ترسید و با او نور یافت اس نے دیدہ کو خدا کے نور سے خالی پایا۔ وہ خدا سے ڈر اور اس نے نور کا راستہ پا لیا اے پر اور ہم تو سوئے اور یا دل چھو بندی در جان ہیے تھا نا اے بھائی تو بھی اس کی طرف آ۔ اس بے وفا دنیا سے کیا دل لگاتا ہے است یکی طرح اسطوره ۱۸۹۵)