دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 215
صد ہز ارسال کفر در جهانت نہاں دو چه تالی پیر کو پر کفر دیگران لاکھوں کفر و تیری اپنی جان کے امر کیسے ہورہے ہیں بھلا تو اور دل کے کفر پر کیوں روتا ہے نیزه اول نداشتین ساکن درست کہ میں را چشم سے باید نخست الے اور پہلے اپنے نہیں ٹھیک کر معترض کے لیے پہلے چشم بصیرت ہونی چاہئیے سنتی گر سنتے بر ما کند! کند او نه نیر او نه بر ما خویش را رسوا کند گر کوئی معنی ہم پر سخت کرتا ہے تو وہ لعنت ہم پر نہیں پڑتی وہ تو خود اپنے نہیں ذلیل کرتا ہے حبت اہل جنا آسال بود لعنت آن باشد که از رحمان بود کاموں کی لعنت کا برداشت کرنا آسان ہے اصلی لعنت تو وہ ہے جو رحمان کی طرف سے کی لعنت کا اشياء التی سلام مطبوعہ ۲۱۸۹۵) مانی خدائے اسکا جال آفرید اول نثار آنکھ رو شد دل پدید آئے جان اُس پر قربان ہے جس نے اس جان کو پیدا کیا دل اس پر نثار ہے جس نے دل کو بنایا جال ان پیداست میں سے بریدش ربنا اللہ ربنا اللہ گویدش جمان ہو کہ اس کی مخلوق ہے اس لیے اسے ڈھونڈتی ہے اور کہتی ہے کہ تو ہی میرا رب ہے تو ہی میرا یہ ہے گر وجو د جال نمرود سے دو جہاں کے حد سے مر جمالش نقش جاں اگر ان کا وجو د اس کی طروں سے ظاہر نہ ہوتا ۔ تو اس کے حسن کی محبت جان پر کسی طرح نقش چھاتی مرداں را کے پیدا ہوں یگاں میں درد دل کرتے اور وں عاشقان م اور ان کو ہی کیا نے ہی کی ہے اس لیے مشقوں کی طرح ملا اس کی رات دوڑتا ہے رجان