دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 203

یں کتا بے پیش چشم ما نهاد تا از و را و بدی داریم یاد سیر کی کتاب اس نے ہماری آنکھوں کے سامنے کہ دیا تاکہ اس کی وجہ سے ہم بات کا راستہ یاد رکھیں نا شناسی ہوں مجھ سے پاک را کو نماند خاکیان و خاک را کہ تو اس خدائے پاک کو بچانے ہو دنیا والوں اور دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا ت شود و میار بهر وحی دوست باشناسی از هزاران آنچه دوست تا کہ خدا کی وحی کے لیے پابلو پیار کے ہوتا کہ تو ہزاروں کلاموں میں سے پچھان لے کہ کوئی اس کی طرف سے ہے تا اخیانت خیانت را نماند هیچ راه تاجدا گردد سفیده ی از سیاه سیاه تا کہ خیانت کا کوئی راستہ کھلا نہ رہے اور نور تاریکی سے الگ ہو جائے پس یہاں شدہ انچاس جادار است کار دوستش شاید گفت نه خاست یس رہی ہوا جو اُس خدا کا نشا تھا اور اس کا کام اُس کے کلام کا گواہ قرار پایا مشرکان و آنچه پرورش می کنند این گواہاں تیر ورزش سے کند مشرک لوگ جو ہوائے کرتے ہیں۔ یہ گواہ اقوال خدا اور فعلی خدا، ابھی عذرات کر تیروں سے چھلنی کر دیتے ہیں۔ گر بگوئی غیر را درمان خدا تک زندیر روئے تو ارض و سما را اگر کسی اور کو خدائے رحمان کہ دے؟ ران کر دے تو تیرے منہ منہ پر زمین و آسمان تھوکیں اور نمائشی بہر اس یکتا پسر بر تو بارد لعنت زیر و زیر اور اگر اس کیتا کے لیے تو کوئی بیٹا جو نہ کرے تو نیچے اور اُوپر سے تھے پر لعنتیں برسنے لگیں با زبان حال گوید این جهان مال خدا فرد است و تیم دریگال ہ جمالی زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ خدا کہتا تہم اور ناصر رہے