دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 193
سرور من آن نوش مرغ از رحمان تقدیسم که دارد جها به بستان محمد میں طائرات تقدس میں سے وہ علی پر غدہ ہوں جو محمدصلی اللہ علہ وسلم کے باغ میں بسیرا رکھتا ہے تو جان ما منور کردی از عشق ندایت جانم اسے جان نے محمد نے عشق کی وجہ سے بھاری جان کو روشن کر دیا ہے یا صلی الہ علیہ وسلم مجھ پر میری جان فدا ہو در بنا گرد هم صد جاں دریں راه نباشد نیز شایانی محمد اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تقریبی اسوس رہے گا کہ ہم صلی الہ عیہ علم کی شان کے شایاں ہیں چه هیبت با دادوند این جمال را که ناید کس س به میدان محمد اس جوان کو کس قدر رواب دیا گیا ہے کہ حمد صل اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی مقابلہ پر نہیں آنا الا ہے اسے دشمن نادان و بے راہ ترس از تیغ بران محمد ے نادان اور گمراہ دشمن ہوشیار ہو جا۔ اور محمد صلی الہ علیہ وسلم کی کاٹنے والی تلوار سے ڈر دو مولی که گم کردند مردم مجو در آن و اعوان محمد 5 تھا کے اس راستہ کو جیسے لوگوں نے بھلا دیا ہے محمد علی علیہ وسلم کے ہل اور انصار میں ڈھونڈھے الا اسے متکرانہ شان محمد هم انه نور نمایان محمد بردار ہو جایا اسے رقص و محمدصلی اللہ یہ علم کی شان نیز محمد علی الر یہ سلم کے چہکتے ہوئے نور کا حکر ہے کرامت گرچہ بے نام ونشان است بیا بنگر به معلمان محمد ریکا است آب مفقود ہے۔ گر تو آ اور اسے محمد صلے اللہ عیہ مسلم کے غلاموں نہیں دیکھ رہے الے یہ الہامی شعر ہے ر آئینہ کمالات اسلام آخری معماست ؟ ماره ۹۳ ماه