دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 188
ی امری رایابی کر کے سمند در درون شیر با دارند این عضلات را یہ سچ امری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں۔ گرم نحضرت صلی اللہ ہم کو ری نیت نہیں دیتے ہوئے تازہ عرفان و محروم انل بودند پسندیدند در شان شیخی این ملت برا و کہ بندہ وہاں کی خوشبو سے ازل محروم تھے اس لیے شاہانت و عالم کی شان میں یہ ذلت پسند کی ہوا نے قرآن را چو ماتا کے میگیرند به تمامی شان پا گر است تست را رام کے امام موتیں کو کوڑے گٹ کی طرح پھینک بائی کے ناقص علم کی وجہ سے تب اسلام کاک تا نقصان ہوا ر سایبانی بیان از متقال خود مرد دادند ولیری باید باید دیدگاه ید آمد پرستاران میشت را نہوں نے اپنے عقیدہ سے کام عیسائیوں کی وہ کی ہی وجہ سے مردہ پرستوں میں بھی دلیری آگئی ین کار را بایی های سیما را دیدار داشته اید ارت را انہیں ان ہی میں اس کی یہ کی کر سکتاہوں جبکہ زمانہ فریاد کرتا ہے کہ جلدی مدد کو پہنچے ایک می کند و هم چنین حال جاری هم رو با جان و دست راست را دوم یاں دھیری رات چور کا خوف اور تو معاقل اس غم سے کہاں چھاؤں ہے یا رب خود دست قورت دکھا ایجان انگیزی شان بیائی خود نمی ترسم ها کانال درسی که می بخشید عطرت را ر ہی پر اک ٹال ہے میں ایک مجھے تو نہیں علاوہ نورکی چاپ سکتا ہے خدا نے میری فطرت کو بخشا ہے کا فرقانی شمالی ناظر من دمشتے آرد و صادق بنالی بود دیگر چند قیامت را وی کے شور و شب میرے دل میں گھبراہٹ نہیں پیدا ہوتی صادق کبھی پیدا نہیں ہو تا خواہ قیامت کو دیکھے آینه کمالات اسلام صفحه به ۵ تا ۵۰