دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 180

ر کے ان کار خود اس کے کند من عالم کے پرو بار تو اسے باری بہنا ہرشخص اپنی نا میں اپنے سے دعا تو ہے گرمیں اے میرے آنا تیری آل و اصلاح کے لیے دعا ماجھتا ہوں انی است ہائے ہر سڑئے قدام دی اور کم گریان و بنام یہ ہزار ے نیا انتی با تیرے بال بال پر فراہوں کو تھے ایک لاکھ پائیں بھی ہیں تو تری راہ میں سب کو قربان کر دیں اتباع میشن دیت اور تحقیق بیست کیمیائے بروئے امیر مرجان نگار اصل میں تیری اتباع اور تیرا عشق ہر دل کے لیے کیمیا اور ہر زخمی جان کے لیے اکسیر ہے دال گران میت انبهرت به پیوست کرام اور تار تو گرد جہاں کیا آیدی کاری لاگ تیری جس میں خون نہیں تو دل ہی نہیں اور جان تجھ پر قربانی نہ ہو وہ جان کس کام کی ول نمی ترسد عمر تو مرا از موت هم ناپایداری این خوش میرم بابائے عام تیری محبت میں میرا دل موت سے بھی نہیں ڈر تالار استقلال دیکھ کر میں لیب کے نیچے خوش خوش مارا ہوں اینبار است یا رحمه امتد آمدیم که چول ماہر یہ تو صد ہزار امید داری ے اللہ کی رحمت ہم تیرے ہم کے پید ا ہی تو ہے کہ ہم جیسے لاکھوں تیرے در کے میر دار ہیں انی اد ا ہوئے جو تو ام یا اس کو ام این سرکه روش استان ے ان میں تیرے پیسے مکھڑے پر شار ہوں اس نے اس کو کندھوں پر ہا ہے تیری یہ ہیں وقف کر رہا ہے امین نور رسول پاک را نموده اند مشق اور دل ہے جو شد و آب از آبشان جب مجھے پول پاک کا نور کھایا گیا تب سے اس عشق میرے دل میں ہوں جوش مارتا ہے جیسے آبشار میں پانی ت و امامان چور تے کے بعد ایک رات سے ہمدان نام دگر و جار ہے میرے سوں سے اس کے پیش کی ان ریلی کی طرح کھتی ہے اسے نام طبع رفیق میرے اس پاس سے ہٹ جاؤ M