دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 178
١٤٨ نعرہ بابر د ر م ز دان نے خلق خدا تند تفریح کار او پیش خدا لیل و نہار خدا کی مخلوق کے لیے درد ناک آہیں بھرتا تھا اور خدا کے سامنے رات دن گریہ و زاری اس کا کام تھا محشور شی سے بر فلک ان انزال مجزوه دعا ترسیان ایر مند شیر از عمران اشکبار ی کو دوا کی رو سے آسمان پوخت شور برا ہوگا اوراس کی وجہ سے رشتوں کی آمیں جانے سے انکار نہیں تران مجرد مناجات تصریح کردنش ننگا لطف حق بر عالمه تاریک و تار ت آخر کار اس کی اجوری منابجا اور گریہ وزاری کی وجہ سے خدا نے تاریک و تار دنیا پر سربانی کی نظر فرمائی ر جهان از سمیت درایو د طوفان عظیم بود خالی از شرکت بال کود کودر بریار جان میں بد کلیوں کا خطرناک طوفان باتھ ہی ملک میں لوگ شرک اور گناہوں کے سے اسے دور رہے ہوں تجھے 2 مجھو تو دنیا و دیگراد در ستاد این دل خالی بود از علت گرد و بار دیانیت کے تازہ کی طرح تقسیم کے فسادوں سے بھر گئی تھی کوئی دل بھی علم اور گرد و غبار سے خالی نہ تھا این راستا بود بر پرشی است پس بجای کرد بر روح محمد کردگار ہر رواج اور ہر نفس پر شیاطین کا قبضہ تھا تب خدا تعالے نے محمد کی روح پر تجلی فرمائی مت اور پر سرخ و سیا بے تابی است که به نوع انسان کرد جان خود نشار تمام گوری اور کالی تو موں پر اس کا احسان نابیت ہے اس سے نوع انسانی کے لیے اپنی جان قربان کر دی یانی است ولی خود شیرہ ہائے ہی ہے تو تار در برا ہے عارف پر ہیز گار کے سے بنی اشہد ان ہی ہر ایک کراہتوں کا سورج ہے تیرے بغیر کوئی عمارت پر پیر گار امہ ہدایت نہیں پا سکتا انیانداب و چشمه حال پردر است مانی اند ولی در راه می آموزگار اسے بھی اللہ تیرے ہونٹ زندگی بخش چشمہ ہیں اسے نبی اللہ تو ہی خدا کے راستہ کا رہنما ہے