دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 177
دا ست داد تا گرد هم موم دوست کے مال کرتا آن بر میدیاکانا وگوں کی قتل دکھ سکے سے ہاتہ ہے گرا کی کیا مجال کرم اس تا پیدا کتا سمندر کی حدتک پہنچے ت کند گفتن قول بھی نقل کئے اور توحید پیش از آرش پیوند یار قول فی کہتے ہیں کی اور سے لال ہے وہ وحید ا ہوا ہے اور آدم سے بھی پہلے یار سے اس کا تعلق تھا جان خود داوں نے علی خداد در نقش جهان شناخته مامان بیا راغم گسار تفوق علی کے لیے جان دنیا اس کی فطرت میں ہے وہ شکستہ دلوں کا جان شاعر اور نیکیوں کا ہمدرد ہے املان قبیل دنیا پر شرک و کفر بود اینچ کر خون شد دل جو دینی شهرمانیه ایسے وقت میں جبکہ دنیا کفر و شرک سے بھر گئی تھی سوائے میں پادشاہ کے ایسی کروں اسکے لیے لگیں تو بھلا این خیر شد ان محمدا که بود از عشق نداری ی کی شرک کی جاتے ہیں کی گندگی سے ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا و ہ ہ ہ ہ ہوتی جو جیت پائی سے چور قد کس به میداند کرانا تالیا باشد خیر کال شی کرد ز بر جمال و کنج فارس کون جانتا ہے تو کسے اس آمدوزاری کی خبر ہے ؟ ہو آنحضرت نے دنیا کے لیے غار حرا میں من میدانم هر کس بوده اند و منے کان دان اسے در آوردنش جوین دودانگام میں نہیں جانتا کہ کیا در دلم تو تکلیف تھی ہو اسے تم زدہ کر کے اس غار میں لاتی تھی نے ان کی روش نے بینائی ہر اس نے بیرون می خوان کریم نے ہی اس ہ اُسے اندھیرے کا خوف تھا نہ تنہائی کا ڈر نہ مرنے کا غم نہ سانپ بچھو کا خطرہ یت مشرا نے علی و قربان جہاں کے من پیش بیش نے منشور ایش کار والے ملا بال بال ایران تے نہ اس نے بھی ان سے کچھ اعلی تھان اپنی جان سے کچھ کام داست برسی کو فالو ایل