دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 175
۱۷۵ محبت تو دوائے ہزار ہماری است برے تو کر رہائی دیں گرفتاری است تیری محبت نیمت ہزار بیا ہمایوں کی دوا ہے تیرے منہ کی قسم کہ اس گرفتاری ہی میں اصل آبادی ہے۔ ناہ ہے تو جستن نه طوریستهای است که آمان بر نابیت کمان شیاری است تیری پناہ ڈھونڈنا د باتوں کا طریقہ نہیں ہے بلکہ تیری پناہ میں آنا ہی تو کمال درجہ کی عقل مندی ہے متناع میر شیخ تو نان تفاهم داشت که خیر داشتن عشق تو ز نداری است میں تیری محبت کی دولت کو ہرگز نہیں چھپاؤں گا کہ تیرے عشق کا مخفی رکھتا بھی ایک نداری ہے برای مردم که سروال ندائے تو حجیم کہ جہاں پیار سپردن حقیقت یاری است جاں یں تیار ہو کر ان دول تجھ پر قربان کروں کیونکہ بیان کو محجوب کے سپرد کر دینا ہی اس دوستی ہے۔ ر آنچه کمالات اسلام صفحه ای چوں زمین آید بنائے سردار عالی تناس عاجزه از روش زمین و آسمان و هر دو دار مجھ سے اس عالی قدر سردار کی تعیف کی طرح ہو سکے اس کی صبح سے زمین و آسمانی اور دونوں جہان عاجز ہیں ان مقام قرب کو دارد بدلدا یه قدیم کس نداند نشان آن از واصلان کردگاره تری کلوہ مقام ہر وہ محبوب کو انسان کے ساتھ رکھتا ہے اس کی نشانی کر دو اسلامی بارگاہ الہی میں سے بھی کوئی نہیں جانتا؟ ان خانتها که حبوب ازل دارد و این خواب دیده ثل آن اندر دیا حمد انزلی وہ مہر بانیاں جو محبوب اند لی اس پر فرماتا رہتا ہے ۔ وہ کسی نے دنیا میں ہوا خواب میں بھی نہیں لکھیں سر ب حق خاصان حتی شاه گروه عاشقال انکه روش کر کے ہر منزل میل نگار ناسانی کی کا سردار اور عاشفانی پہلی کی جماعت کابادشاہ ہے جس کی رح نے جو کے عمل کے ہر ایک کولے کر ہی ہے۔ J