دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 161
آن را که حق به سمت خارش مقام دارد پول بر خلاف معده برش آمد از ارم برطان برش نارم وہ جیسے خدا نے جنت الخلا میں جگہ دی ۔ وہ اسے اپنے وعدہ کے پر خلافت فروہ ہیں میں سے کیوں نکالے برش کرد همسرم چوں کا فراز ستم بپرسند مسیح را منتوری ضد البرش خدا جو کہ کافر ہے فائدہ میں کسی پرستش کرتا ہے اس لیے خدا کی غیرت نے مجھے اُس کا اسیر بنا دیا و یک نظر جانب قران د خور کن تا بر تو کشف شود این را متهم جا ۔ اور قرآن کی طرف نظر غور کر تا کہ میرا پوشیدہ راز محمد پر کھل جائے خبر لائے یارب کیا یارب کجاست حرم راز مکاشفات تا محور با طنش خبر آرد به مخترم اے میرے رب ہمکاشفات کا راز جاننے والا کہ ہاں ہے ۔ تا کہ اس کا نور با من آنحضرت سے شہر لا والاكبار ای قبله رو خود بیتی بیچارد هم بعد از هزار و سه کایت کند در حرم اس قبیلہ نے پودھویں صدی میں اپنا منہ دکھایا ۔ حرم سے بہت نکالنے کے تیرہ سو سال پند میں اپنا وشید آنچنان کرم منبع فیوض کار ندائے یار زہر کر کے محرم اس سر چشمہ فیوض کی عمرانی اس قدر جوش میں آئی کہ ہرے ہر گلی کوچے سے اس بار کی صدا آنے لگی اے معترض بوت های صبور باش تا خود خدایان کند آن نور استوم اے مرض خدا کا نریت کرادر زامبر کر تا کہ خدا انو د میرے ستارے کی روشنی کو ظاہر کر دے ار نخوانده که گمان نمکو کنید چون روی بردن زهد و دش برادرم کیا تو نے نہیں پڑھا کر نیک نیتی سے کام وہیں اسے بھائی تو اس کی حدوں سے باہر کیوں جاتا ہے۔ حدوں بر من چرا کشی تو چین نیز زیان از خود نیم از قادر ذو الجلد اکبر مجھ پر جو اس طرح نہ بان کی چھری کیوں چلاتا ہے میں خود نہیں آیا بلکہ خدا تعال نے مجھے بھیجا لله أنتَ قُلْتَ النَّاسِ الخ